مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے تک مودی سے مذاکرات کا فائدہ نہیں، وزیر اعظم

 مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے تک مودی سے مذاکرات کا فائدہ نہیں، وزیر اعظم
کیوبا بحران کے بعد پہلی بار دو ایٹمی طاقتیں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں، وزیر اعظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ ٹوئٹر

نیو یارک: وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹائے جانے تک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں.عمران خان نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ کرفیو اٹھنے کے بعد کیا ہو گا لیکن قتل عام کا خدشہ ہے اور 80 لاکھ لوگ کشمیر میں محصور ہیں اس سے بڑی اور ریاستی دہشتگردی کیا ہو گی۔


نیو یارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور کیوبا بحران کے بعد پہلی بار دو ایٹمی طاقتیں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاملات کو معمول پر لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی اور سیکیورٹی کونسل اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکی جس کی وجہ سے کشمیری متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے مسئلے پر مزید بات نہیں کر سکتا اور ٹرمپ سے ملاقات کے بعد میں نے فوری طور پر صدر روحانی سے ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر عالمی خاموشی مایوس کن ہے۔ اگر دو ایٹمی ممالک میں جنگ ہوئی تو اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ کرفیو ہٹے گا تو کشمیریوں کا کیا رد عمل ہو گا؟۔ کیا وہ بھارتی سرکار کے اقدام کیخلاف خاموش رہیں گے؟۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صرف اس لیے پابندیاں لگائی گئیں کیونکہ وہاں مسلمان ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادی پر کوئی سختی نہیں ہو رہی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے یکجہتی کیلئے مسلم ممالک کو آواز اٹھانا ہو گی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے امریکا میں موجود ہیں۔

وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور کشمیر کا معاملہ پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے۔