امریکی ایوان میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش

امریکی ایوان میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش
امریکی صدر نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مواخذے کی کارروائی کو ’کچرا‘ قرار دیا ہے۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ امریکی میڈیا

نیو یارک: ڈیموکریٹک پارٹی نے سیاسی مخالفین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے دوسرے ملک پر دباؤ ڈالنے کے الزام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کر دی۔


ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے والی ڈیموکریکس نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو اس کا جواب دینا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مواخذے کی کارروائی کو ’کچرا‘ قرار دیا ہے۔

ڈیموکریٹکس کو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے لیے امریکی ایوان نمائندگان میں مکمل حمایت حاصل ہے تاہم اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پر امریکی کانگریس میں کارروائی ہو۔

امریکی ایوان نمائندگی کی اسپیکر نینسی پلوسی نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر پر اپنے سیاسی مخالف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا جس سے 2020 کے انتخابات سے قبل ڈیموکریکٹس اور صدر کے درمیان لفظوں کی جنگ کی بنیاد پڑی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اگر صدر ٹرمپ کے خلاف کارروائی آگے بڑھتی ہے اور امریکی ایوان نمائندگان جہاں ڈیموکریکٹس کی اکثریت ہے ان کے خلاف ووٹ دیتی ہے تو ایسی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے تیسرے صدر ہوں گے جن کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہو گی۔

امریکا کی تاریخ میں آج تک صرف دو صدور کا مواخذہ ہوا ہے اور مواخذے کا سامنا کرنے والے پہلے صدر اینڈریو جانسن تھے جنہیں 1868 میں اپنے خلاف تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ 1998 میں بل کلنٹن کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب ہوئی تھی۔

رچرڈ نکسن نے 1974 میں اپنے خلاف مواخذے کی تحریک پیش ہونے سے قبل ہی استعفیٰ دیدیا تھا۔

سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت اکثریت میں ہے اور ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانے سے بچانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

یاد رہے کہ پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی نینسی پلوسی کی جانب سے ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کی مخالفت کی جا رہی تھی لیکن ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کو ایک یا زائد ٹیلی فون کالز کے انکشاف کے بعد ڈیموکریکٹس لیڈر شپ نے پارٹی رہنماؤں کو اس معاملے پر متفق کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ تاحال افشا ہونے والی ٹیلی فون کالز کی تفصیلات کانگریس میں پیش کرنے کو مسترد کر رہی ہے جب کہ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع نہ کیں تو ان کی فوجی امداد روک لی جائے گی۔