امریکہ ، 20 سال پرانےدوہرے قتل کیس میں افریقی نژاد امریکی کو سزائے موت

امریکہ ، 20 سال پرانےدوہرے قتل کیس میں افریقی نژاد امریکی کو سزائے موت

 واشنگٹن : امریکہ میں 20 سال قبل دوہرے قتل میں ملوث ایک افریقی نژاد امریکی کو فیڈرل کورٹ کی جانب سے سنائے گئے سزائے موت کے فیصلے پر جمعرات کو عملدرآمد کردیا گیا۔


تین ماہ کے دوران یہ ساتواں موقع ہے کہ قتل کے مجرم کو سزائے موت دی گئی ۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 40 سالہکرسٹوفر اینڈریو ویالوا کو ٹیری ہاٹ جیل میں مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 46 مٹ پر زہر کا انجکشن لگا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف مجرم کی اپیل مسترد کر دی تھی جس میں اس کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ جرم کا ارتکاب کرتے وقت ملزم نابالغ تھا ۔

کرسٹوفر پر الزام تھا کہ اس نے 1999 میں ٹیکساس شہر میں ایک نوجوان جوڑے کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد گاڑی سمیت جلا دیا تھا۔

ٹیمپل یونیورسٹی کے ماہر نفسیات پروفیسر جیسن چین نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرسٹوفر نے انتہائی گھناو¿نا جرم کیا تاہم میرا مؤقف ہے،

کہ وہ اس وقت دماغی طور پر بالغ نہیں تھا۔ سزائے موت کی مانیٹرنگ کرنے والے گروپ انفارمیشن سینٹر کا بھی کہنا ہے کہ ملزم نے جس وقت جرم کیا تب اس کی عمر 19 سال تھی ۔

امریکہ میں عام طور پر ریاستی عدالتیں اس نوعیت کے فیصلے سناتی ہیں جبکہ وفاقی عدالتیں انتہائی سنگین مجرموں کا ٹرائل کرتی ہیں تاہم سزائے موت کا مرحلہ شاذ و نادر ہی آتا ہے ۔

1988 اور 2003 کے درمیان فیڈرل کورٹس کے حکم پرصرف تین قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی جبکہ اس کے بعد 17 سال میں ایسا موقع کبھی نہیں آیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایک سال قبل سزائے موت کے فیصلوں پر عملدرآمد کا سلسلہ بحال کیا تھا۔