تاثر

تاثر

چند دن پہلے دانت کی تکلیف کی وجہ سے اپنے بھائیوں جیسے دوست معروف ڈینٹسٹ پروفیسر ڈاکٹر گلریز محمود خان کے کلینک Habitate گیا۔ دوپہر کا وقت تھا، مجھے شدید بھوک بھی لگی تھی، ڈاکٹر صاحب فون نہیں اٹھا رہے تھے۔ برادرم ڈاکٹر اعجاز خاور خواجہ کو تنزانیہ فون کیا کہ ڈاکٹر گلریز کا پتہ کریں۔ انہوں نے ان کے بیٹے سے بات کی اور مجھے موبائل نمبر دیا کہ فون کر لیں مگر اس سے پہلے ڈاکٹر اسد گلریز ان کے بیٹے کا فون آ گیا کہ انکل آپ آ جائیں میں نے کہا کہ بیٹا میں بازار سے نہیں کھاتا آپ مجھے گھر سے کچھ بنوا کر بھجوا دیں، وہ شہر سے باہر تھا میں کلینک پہنچا تو ڈاکٹر گلریز محمود خان نے بتایا کہ وہ نماز میں تھے اور موبائل دور تھا۔ بہرحال اس تمہید کا مقصد یہ تھا کہ بھوک نے دانت کا درد بھلا دیا۔ جب مجھے انہوں نے کہا کہ آپ پہلے برگر کھا لیں پھر پروسیجر کریں گے کیونکہ بعد میں آپ دو گھنٹے کچھ نہیں کھا پائیں گے۔ اللہ، اس کے رسولﷺ اور فرشتے گواہ ہیں کہ پہلا نوالہ لیتے وقت مجھے سیلاب زدگان کی یاد شدت سے آئی جو دن بھر پاکستان آرمی، حکومت اور فلاحی تنظیموں کے لوگوں کا انتظار کرتے ہیں جو انہیں دو تین وقت کا کھانا دے رہے ہیں۔ میں تو لاہور کے بہترین کلینک میں تھا مگر وہ دوائی اور علاج کیلئے بے تاب ہیں۔ بہرحال میں نے مناسب کھانا کھا لیا مگر اس خیال نے مجھے کافی پریشان کیے رکھا۔ گلزار بھائی (جناب گلزار احمد بٹ سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل) اللہ سلامت رکھے نے مجھے ایک ویڈیو کلپ بھیجا جس میں ملک ریاض پراپرٹی آئیکون سی این این کے نمائندے کو انٹرویو دے رہے ہیں ”ہمارے ملک کی معیشت زرعی معیشت ہے، ہمارا 60 فیصد کاروبار اس سیلاب کی وجہ سے برباد ہو گیا، میں اپنے ملک کے 140 امیر ترین لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور لوگوں کی مدد کریں اور میں اپنے 75 فیصد اثاثے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے دینے کا اعلان کرتا ہوں“۔ انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ 75 فیصد اثاثے دیتا ہوں تو وہ کتنے ہیں؟ ملک ریاض نے کہا کہ 2 بلین ڈالر سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم گورنمنٹ کے ذریعے خرچ کرتے ہیں تو 48 فیصد مختلف مدوں میں ضائع ہو جائے گا۔ اس نے سوال کیا کہ کرپشن؟ ملک ریاض نے اثبات میں جواب دیا اور مزید کہا، میں اپنی دولت خرچ کر رہا ہوں دیگر لوگ ملیں ایک کمیٹی بنا لیں اور آپ بھی اس کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔ ملک ریاض نے کہا کہ اگر میرے لوگ خوراک اور ضروریات سے محروم ہیں تو میں سو نہیں سکتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لاکھوں لوگوں کی امداد کا بھی بتایا جو ان کی طرف سے کی جا رہی ہے اور کی جا چکی ہے۔ آپ یقین کریں کہ میں ملک ریاض کا کبھی حامی نہیں 

رہا مگر ان کے اس انٹرویو نے میرا تاثر بدل دیا۔ میر آقا کریمﷺ کا فرمان ہے کہ اگر آپ کا تاثر درست نہیں تو فوری طور پر درست کریں (مفہوم)۔ گویا اگر بُرا تاثر سچائی پر مبنی ہو گا تو انسان اپنی اصلاح کرے گا اور اگر جھوٹ پر مبنی ہو گا تو سچ بول کر اس کی تردید کرے گا۔ آپ کبھی شعبہ زندگی میں دیکھیں لوگوں کا تاثر، تعارف Perception یا امیج ہی سب کچھ ہے مگر جھوٹا اور جعلی بنایا گیا تاثر بالآخر ٹوٹ جایا کرتا ہے۔ باطن ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ ہمارے ہاں افراد تو درکنار اداروں کے متعلق مخصوص تاثر اور امیج بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ قانون اور انصاف کی عملداری کے حوالے سے یہ محاورہ اپنی جگہ مگر اب غریب اور امیر نہیں پسند اور نا پسند کا تاثر عام ہوا ہے۔ کوئی قانون ہو یا معاہدہ کچھ تعریفیں اس میں مخصوص ہوا کرتی ہیں مذہبی اور تاریخی حوالہ سے صحابی صرف  رسول اللہﷺ کے زمانے میں ان پر ایمان لانے والوں کے لیے مخصوص ہے، صادق اور امین تو بعثت سے پہلے اہل عرب نے آپؐ کو لقب دیا تھا یہ لقب صرف آقاؐ کے لیے مخصوص ہے، یارِ غار صرف جناب ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ مگر دکھ کی بات ہے کہ صادق اور امین کا خطاب ایک سابق چیف جسٹس کی عدالت نے عمران خان کو دے دیا اور پھر اب حالت یہ ہے کہ جج صاحب تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اس کی جماعت کے حق میں ٹوئٹ کرتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے کہ یہ شخص وطن عزیز کا چیف جسٹس رہا۔ جس کے روئیں روئیں میں جانبداری ہے۔ جس کو نعوذ بااللہ صادق اور امین قرار دیا آج اس کی بات پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ آقاؐ کا لقب کسی ایرے غیرے کو دینا بذات خود توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ بہر حال کون پوچھتا ہے؟ ہم سب جانبدار ہیں اور دکھ یہ ہے کہ میرٹ کے بغیر دلیل کے بغیر جانبدار ہیں مگر جب ادارے اور قانون نافذ کرنے والے جانبدار ہو جائیں تو پھر قدرت کے قانون کو حرکت میں آنے کا انتظار کریں۔ میاں محمد نوازشریف، آصف علی زرداری اور دیگر لوگوں کے متعلق جو امیج اور تاثر ہے اس میں کسی منفی پہلو کا ان کو خود دفاع یا وضاحت کرنا ہو گی میں نے وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں دیکھا ہے کہ جتنا دفاع عمران احمد خان نیازی کے فالوورز کو ان کا کرنا پڑا ہے، تاریخ بلکہ دنیا کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں۔ حالت یہ ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف چند ممالک میں جاتے ہی کہتے ہیں کہ مانگنے نہیں آیا اور پھر پی ٹی آئی والے مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ یہ تاثر عمران خان سابق ایم این اے ”وزیراعظم“کی وجہ سے قائم ہوا کیونکہ وہ مانگنے میں مہارت اور پھر مکرنے کو مسلمہ اصول قرار دیتے ہیں۔ حالیہ مقدمہ میں عدالت کے اندر لمحہ لمحہ بدلتے ہوئے ان کے بیان اور عدالت کا فیصلہ میں  اس کو معافی تسلیم کرنا اس پر ان کے وکیل جناب حامد خان کا موقف تھوڑا مختلف ہوتا انتہائی افسوسناک ہے۔ عدالت سے باہر عمران خان کا پھر رانا ثنااللہ کو للکارنا، حقیقی آزادی کی بات کرنا نہ جانے مجھے اس کی مماثلت پاکستان کی پرانی فلم ”پھنے خاں“ کے کردار سے کیوں لگتی ہے۔ عمران خان اس وقت خبروں میں ہیں، میں پھر دہرائے دیتا ہوں جس دن سیاست شروع ہو گی یہ چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ ان کی مقبولیت محض پراپیگنڈا ہے۔ ان کے فالوورز کے ٹوئٹرز اور بدتہذیبی سے اداروں کے عزت دار لوگ گبھراتے ہیں۔ ایک دوست سے میں نے کہا کہ عمران نیازی کے متعلق حقائق باہر آ گئے تو پھر کیا ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ کہتا ہے، ریحام خان کی کتاب سے زیادہ کیا کچھ ہو گا۔ گویا ان کو اپنے منفی تاثر کی کوئی پروا نہیں اور فالوورز تو بالکل ہی سمجھیں کہ قوم کا ایک چوتھائی مجذوب ہو گیا۔ کیا آج یہ تاثر عام نہیں کہ سابق صدر زرداری، مولانا فضل الرحمن، میاں نوازشریف، شہبازشریف، اسفند یار ولی اور دیگر میدان سیاست کے لوگ جو بات کہتے ہیں سچ بولتے ہیں مگر عمران نیازی صاحب کی بات پر بھروسہ تو پاس بیٹھا آدمی نہیں کرتا۔ اگلے روز جناب حامد خان نے فواد چودھری کے متعلق سوال پر کہا کہ چھوڑیے میں اس کا نام سننا پسند نہیں کرتا۔ یہ تاثر اور امیج جس کا تدارک کردار سے ممکن ہے اور کردار سب کے سامنے ہے۔ وطن عزیز کی اداکارائیں جن میں ثمینہ پیرزادہ پیش پیش ہیں، سیاسی حوالے سے گو روزانہ ٹوئٹ کرتی ہیں، دیگر ایسی ”ہستیاں“ بھی اور ثاقب نثار کچھ وکلا صاحبان بھی سیاسی جانبداری کے ٹوئٹ کرتے ہیں مگر انسانیت کو دیکھا جائے تو انجلینا جولی ہالی ووڈ اداکارہ دکھی انسانوں کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ محض باتوں اور بکواسیات سے کچھ ہونے والا نہیں عملی طور پر دو بول تسلی کے ہی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ عمران خان حقیقی آزادی کی بہت بات کرتے ہیں حقیقی آزادی اس دن ہو گی جب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے فالوورز حمایت نہیں ان سے سوال کریں گے۔ پونے چار سال حکومت ہو یا کئی سال۔ اداروں سے سوال کریں گے چاہے دس سال، 3 سال، 11 سال یا 9 سال کا اقتدار رہا۔ جب دیانتدار جج کٹہرے میں ہوں اور بیورو کریسی وہ بھی اس کا ایف بی آر ونگ ان کی تفتیش کرے تو حقیقی آزادی کا تصور بھی گناہ ہے جس دن اسلاف کے علاوہ اپنے جیسے کردار کے لوگوں کی تقلید کو اپنی جہالت اور بے بسی کا اعلان سمجھا جائے گا کسی حقیقی آزادی تحریک کی ضرورت نہیں۔ حقیقی بات ہے کہ ملک ریاض کے چند منٹ کے انٹرویو نے کا میری نظر میں تاثر بدل دیا کیونکہ اس انٹرویو کے پیچھے اس حوالے سے ان کا کردار بھی موجود ہے۔ آج ہمارا اجتماعی تاثر ہے کہ ہم بغیر دلیل کے جانبدار لوگ ہیں۔

مصنف کے بارے میں