خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے……!

خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے……!

کوئی بھی مذہب، معاشرہ یا ثقافت گندے رہنے یا گند پھیلانے کو معیوب سمجھتا ہے اور اس سے اجتناب برتنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارا مذہب اسلام تو صفائی کے بارے میں تمام مذاہب سے ایک قدم آگے ہے۔ ہمارے ہاں تو صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ لیکن صد افسوس وطن عزیز کے کسی بھی خطے میں چلے جائیں ایمان کے اس آدھے حصے کی کمی ہی محسوس ہوتی ہے۔ 

 ایک خیال ہے (جو صد فیصد درست ہے) کہ معاشرے کی تربیت کی کمی گھروں کو گند ا  رکھنے، گلی محلہ، سڑک، پارکوں، سمندوں اور دریاوں، ندی نالوں کو آلودہ کرنے کا موجب  بن رہی ہے۔ اگر اس خیال کو درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومتیں، این جی اوز، رفاعی ادارے، تعلیمی ادارے،  مدارس اور مساجد وغیرہ اس کے سد باب کے لیے ایک موثر کردار ادا کیوں نہیں کر تے؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر حصول تعلیم کو اس قدر اہم کردانا جاتا ہے کہ نا صرف مختلف منصوبوں کے ذریعے اسے فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ اس کی ترویج کے لیے اشتہارات پر بھی کروڑوں روپیہ خرچ کئے جاتے ہیں اور بے شمار این جی اوز اسی کام کے لیے غیر ملکی فنڈنگ بھی حاصل کر تی ہیں (اگرچہ اس سب کا حاصل حصول صفر ہی ہے) تو کیا تھوڑی سی مزید توجہ کر کے معاشرے کی تربیت بہتر کرنے کے انتظامات نہیں کیے جا سکتے؟

انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک طرف تو ماڈرن ازم اپنانے کے لیے اپنے مذہب، روایات اور ثقافت کو بھی ترک کرنے کے درپے رہتا ہے تو دوسری طرف جہالت کا یہ عالم ہے کہ اپنے گھر کا کوڑا دوسروں کے گھروں کے سامنے یا پبلک مقامات پر پھینکنے سے باز نہیں آتے۔ 

جہالت کا شکار ان لوگوں کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ آج کے دور میں بھوک کے بعد آلودگی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اس،مسلہ پر فوری اور بھرپور توجہ نہ دی تو پھر شاید صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل تر ہو جائے گا۔ ایک ٖغیر سرکاری ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ہاں اوسطً ہر شخص روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک کلو کوڑا پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اس کوڑا (پلاسٹک بیگز اور اس قسم کی اشیا) میں زیادہ حصہ ان اجزا پر مشتمل ہے جو تلف نہیں ہوتا۔ چونکہ اس میں ہر روز سینکڑوں ٹن کا اضافہ ہو جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کی ڈمپنگ بھی ایک مسئلہ بن جائے گی۔ 

کیا ہی اچھا ہو کہ اگر حکومت سکول اور کالج کی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کو بطور ایک مضمون پڑھانے کا انتظام کرے کیونکہ ہم نے تو ابھی کوڑا کرکٹ کو صحیح ڈھنگ سے ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی نہیں سیکھا اور اس کی ڈمپنگ اور ری سائیکلنگ کے مسائل سر پر چڑھ گئے ہیں۔ 

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کے مطابق کمپنی صرف لاہور سے 5500 ٹن کوڑا اٹھاتی ہے (جو کوڑا کسی بھی وجہ سے نہیں اٹھایا جاتا وہ اس کے علاوہ ہے) جس میں سے صرف 200ٹن کو ریسائیکل کیا جانے کا انتظام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک سیمنٹ کے کارخانے سے روزانہ ایک ہزار ٹن کوڑا اٹھانے کا معاہدہ تھا جنہوں نے اسے ریسائیکل کر کے بطور ایندھن استعمال کرنا تھا لیکن اس وقت چونکہ وہ کارخانہ بند پڑا ہے (سیمنٹ کا کارخانہ کیوں بند پڑا ہے، اس کی وجوہات بتانے کے لیے ایک علیحدہ کالم درکار ہے) اس لیے تمام تر کوڑا کی شہر سے باہر ڈمپنگ کی جاتی ہے۔ 

ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور اور کراچی جیسے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست ہیں۔ اس کو نااہلی اور نالائقی کہیں یا ادویا ساز کمپنیوں کا اثر رسوخ کہ ہمارے ہاں پہلے سے موجود بیماریوں اور وباوں کا تو خیر کوئی سدباب کیا ہی نہیں جاتابلکہ آلودگی کی وجہ سے ہر سال ان میں کچھ نئے ناموں کا بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ 

پلاسٹک بیگز پر ایک قانون کے تحت پابندی لگائی گئی لیکن اس کا اطلاق شہر کے بڑے سٹوروں کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے اوپر اس پابندی کا اطلاق کیا بھی ہے تو ان کا بھی مقصددراصل قانون کے آگے سرتسلیم خم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی جیبوں میں سے پیسے نکلوانے کے لیے ایک اور طریقہ استعمال کرنا ہے۔ ان احباب نے مجوزہ قانون کی آ ڑ لیتے ہوئے شاپنگ بیگز کا کاروبار بھی شروع کر لیا ہے۔ہمیں قیمتاً دیے جانے والے اس شاپنگ بیگ  کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ حکومت کے بنائے گئے معیار کے مطابق ہے۔ اب اگر یہ معاملہ اتنا ہی سادہ ہے تو اس کا اطلاق پورے شہر پر کیوں نہیں ہوتا؟

 Secretariat of the Convention on Biological Diversity کی جانب سے مرتب کیے گئے ڈاٹا کے مطابق سال 1997  میں صرف کوڑا کرکٹ پھینکے جانے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی کی وجہ سے 247   قسم کی حیاتیات  خطرے سے دوچا ر تھیں جو اس وقت ایک ہزار کے قریب ہیں۔

Threatened Species of the International Union for Conservation of Nature کی جانب سے جاری کردہ ایک الرٹ میں صرف سڑکوں، گلیوں، پبلک مقامات، سمندوں، دریاوں اور جھیلوں وغیرہ میں پھینکے گئے کوڑا کرکٹ کی وجہ سے دنیا میں موجود حیاتیات کے سترہ فیصد کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے۔ 

بین الاقومی سطح پر کم از کم مسائل کی سنگینی کو محسوس تو کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خطرات سے نمنٹنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں کسی بھی سطح پر نہ کوئی آگاہی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی تحریک۔ یہ وقت ہے کہ حکومتیں اور عوام دونوں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ گلوبل وارمنگ اور بڑھتی ہوئی فضائی اور آبی آلودگی کرہ ارض پر موجود زندگی کے لیے جن خطرات کی گھنٹی بجا رہے ہیں اگر آج اسے ایک وارننگ کے طور پر نہ لیا گیا تو یقینا کل یہ مسائل قابو سے باہر ہوں گے۔

مصنف کے بارے میں