سیاسی بنیادوں پر جنہوں نے قرضے معاف کرائے انہیں واپس کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس

سیاسی بنیادوں پر جنہوں نے قرضے معاف کرائے انہیں واپس کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس
جن لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر قرضے معاف کرائے انہیں نوٹس کر دیتے ہیں، چیف جسٹس۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں قرضہ معافی کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے دلائل دیئے کہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور محمد خان جونیجو کے دور میں 518 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے۔


مزید پڑھیں: خواجہ آصف نااہلی کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

چودھری برادران نے ایک سو بیس ارب روپے کے قرضے معاف کرائے جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ نے دو سو ملین قرض لیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا جنہوں نے قرضے معاف کرائے ان کے لئے خبر یہ ہے کہ انہیں قرضے واپس کرنا پڑیں گے اور سیاسی بنیادوں پر معاف کرائے گئے قرضوں کی تفصیلات کہاں ہیں؟۔

یہ بھی پڑھیں: خصوصی مشیروں کی تقرری کیخلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ  دو ہزار سات سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی جن لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر قرضے معاف کرائے انہیں نوٹس کر دیتے ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں