خواجہ آصف کا تاحیات نا اہلی کے بعد پہلا انٹرویو

خواجہ آصف کا تاحیات نا اہلی کے بعد پہلا انٹرویو
خواجہ آصف، فوٹو بشکریہ یاہو

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے 28 بہترین سال سیاست اور عوام کی خدمت میں انویسٹ کیے ہیں مجھے عدالت کے اس فیصلے سے بہت دکھ ہوا ہے۔


سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میاں صاحب کے کیس کے بعد مخالفین نے اقامہ کا معاملہ اچھالا۔ 28 سال میں نے عزت کمائی ہے کوئی فیصلہ مجھ سے یہ عزت نہیں چھین سکتا، میں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی تمام بیرون ملک سے آمدن بھی لکھی ہے، میرا ٹیکس کارڈ بلکل کلیئر ہے اور تمام ٹیکس ریکارڈ بھی عدالت میں جمع کروایا ہے، عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے عوام میں ہماری ہمدردی مزید بڑھ رہی ہے۔ ہم انشاءاللہ آئندہ انتخابات بھرپور طریقے سے لڑیں گے۔ میرا بیٹا اگر الیکشن لڑنا چاہے گا تو میرے لیے اس سے بہتر اور کیا ہوگا، میری وکٹ ووٹوں سے نہیں گرائی گئی ، یہ وکٹ جس طرح سے گرائی گئی ہے سب کے سامنے ہے میں اس پر بات نہیں کروں گا مجھے آئینی اداروں کا احترام بھی ہے۔ اپنے وطن کی مٹی کے ساتھ میں نے اپنا رشتہ نبھایا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ’پاکستان میں پھانسی چڑھانے، جیل بھیجنے اور ملک بدر کرنے کی روایت پڑ چکی ہے‘

 خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مجھے اور میرے ووٹروں کو اس پر فخر ہے میرے خاندان کو بھی اس پر فخر ہے۔ میں نے کئی ادوار دیکھے ، اتار چڑھاﺅ بھی دیکھے مشرف کا آمرانہ دور بھی دیکھا ہے۔ میں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی تمام بیرون ملک سے آمدن بھی لکھی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ووٹ بنک کم نہیں ہوگا، عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے عوام میں ہماری ہمدردی مزید بڑھ رہی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے تین ارکان اسمبلی پیپلز پارٹی میں شامل

 خواجہ محمد آصف نے کہا کہ میں نے اور میرے والد صاحب نے سیالکوٹ سے 12 الیکشن جیتے ہیں میری وکٹ ووٹوں سے نہیں گرائی گئی ، ووٹوں سے وکٹ گرائے تو جشن مناتے ،یہ وکٹ جس طرح سے گرائی گئی ہے سب کے سامنے ہے میں اس پر بات نہیں کروں گا مجھے آئینی اداروں کا احترام بھی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں