پانامہ فیصلے کی پاکستانی قوم کو 14 ارب روپے قیمت ادا کرنا پڑی،احسن اقبال

 پانامہ فیصلے کی پاکستانی قوم کو 14 ارب روپے قیمت ادا کرنا پڑی،احسن اقبال

اسلام آباد:پانامہ کیس کی پاکستان نے کیا قیمت ادا کی،یہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گئے تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پانامہ فیصلے کی پاکستانی قوم کو 14 ارب روپے قیمت ادا کرنا پڑی، ہنستے بستے اور تیزی سے ترقی کرتے پاکستان کو کس طرح لڑھکنے کے راستے پر ڈال دیا گیا،ہمیں اس وقت جو کوئی اندرونی طور پر تقسیم کرنا یا لڑانا چاہتا ہے ہمیں ان چیزوں سے لڑتے ہوئے آئین و قانون پر چل کر ملکی مفادات کو دیکھتے ہوئے متحد ہونا چاہیے.


ہمیں ٹرمپ کی تقریر پر بات کرنی چاہیے، گڑھے مردے کھود کر ملک کو کسی تنازعے میں نہیں الجھانا چاہتے، اس وقت ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے،جبکہڈان لیکس کے معاملے میں فوجی اور سیاسی قیادت نے مل کر تحقیقات کیں اور دونوں اداروں کے اتفاق رائے سے وہ معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکا ہے۔

ہفتہ کو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے گزشتہ دنوں آگ سے متاثر ہونے والے اسلام آباد کے سستا بازار کا دورہ کیا۔اس موقع میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہر ذی شعور پاکستانی کو نظرآرہا تھا افغانستان اور دنیا میں حالات کدھر جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد مرتبہ ٹی وی پر بات کی کہ پاکستان کے اردگرد سازشیں ہورہی ہیں،احسن اقبال نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ نیشنل ایکشن پلان اور ملکی سلامتی کے حوالے سے مستقبل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک میں استحکام اور امن قائم رکھیں کیونکہ اسی سے ہمارا مستقبل اور معیشت جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوجمع دو چار کرنے کے لئے کسی خفیہ اطلاعات کی ضرورت نہیں ہوتی، ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا ہماری صفوں میں انتشار نہیں،کئی بار کہا ہے کہ ملک کے ارد گرد بہت سازشیں ہورہی ہیں، ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام پھیلانا ملکی مفاد سے کھیلنا ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ جے آئی ٹی بننے سے لے کر آج تک ملک کو 14 ارب روپے کا نقصان ہوا اس کا بھی سوال پوچھا جانا چاہیے کہ یہ کس کا نقصان ہے۔ڈان لیکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس کے معاملے میں فوجی اور سیاسی قیادت نے مل کر تحقیقات کیں اور دونوں اداروں کے اتفاق رائے سے وہ معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکا ہے.

اس لیے ڈان لیکس ماضی کا حصہ ہے ہمیں اس سے بڑی چیزوں پر سوچنا چاہیے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں ٹرمپ کی تقریر پر بات کرنی چاہیے، گڑھے مردے کھود کر ملک کو کسی تنازعے میں نہیں الجھانا چاہتے، اس وقت ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، پوری قوم ایک آواز میں بات کرے تاکہ دنیا کو پتا ہو ہم متحد قوم ہیں اور ہماری صفوں میں کوئی انتشار نہیں.

یہی اتحاد اور قوت ہمیں مستقبل میں سرخرو کرے گی۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت جو کوئی اندرونی طور پر تقسیم کرنا یا لڑانا چاہتا ہے ہمیں ان چیزوں سے لڑتے ہوئے آئین و قانون پر چل کر ملکی مفادات کو دیکھتے ہوئے متحد ہونا چاہیے۔پاناما کیس سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ہنستا بستا پاکستان جو تیزی سے ترقی کررہا تھا اسے کیسے لڑھکنے کے راستے پر ڈال دیا گیا.

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں کئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہونے والی تھیں اور کئی معاہدے ہونے والے تھے لیکن سیاسی بے یقینی کی وجہ سے یہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلاشبہ سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہیں اسی لیے فیصلے پر عملدرآمد کیا لیکن عدالت کا وہ فیصلہ جس میں دس ہزار درہم کی ممکنہ تنخواہ جو لی بھی نہیں گئی اس میں وزیراعظم کو نااہل کیا گیا.

اس فیصلے کی پاکستانی قوم کو 14 ارب روپے قیمت ادا کرنا پڑی۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو ملک اپنے سیاسی استحکام سے کھیلتا ہے اسے اقتصادی ترقی کو بھولنا پڑتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمیں ترقی بھی کرنا ہے اور سیاسی استحکام سے بھی کھیلنا ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک میں استحکام اور امن قائم رکھیں کیونکہ اسی سے ہمارا مستقبل اور معیشت جڑی ہوئی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ کئی بار کہا ہے کہ ملک کے ارد گرد بہت سازشیں ہورہی ہیں، ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام پھیلانا ملکی مفاد سے کھیلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ نے سستا بازار میں آتشزدگی سے متاثر ہونے والوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے سفارش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ مدد کی جاسکے، کوشش ہے یہ بازار جلد ازجلد دوبارہ شروع ہواورآپ اپنے کاروبار کا دوبارہ آغاز کر سکیں، تمام عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کئے جائیں یہ ایک اندوہناک واقعہ تھا جس میں600 سے زائد دکانیں جل گئیں.

اتنے بڑے بازار میں آگ بجھانے کے آلات ہوتے تو اتنا زیادہ نقصان نہ ہوتا۔ وزیر داخلہ نے متاثرین سے وعدہ کیا کہ حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے متاثرین کی زیادہ سے زیادہ مدد کرے گی جب کہ انہوں نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ ہر بلڈنگ میں آگ بجھانے کے آلات لگائے جائیں۔