میاں صاحب کی ترقی دھوکہ تو خان صاحب کی تبدیلی جھوٹ ہے، بلاول بھٹو زرداری

میاں صاحب کی ترقی دھوکہ تو خان صاحب کی تبدیلی جھوٹ ہے، بلاول بھٹو زرداری

فتح جنگ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ دہشت گردوں سے خوفزدہ عمران خان نے اب مچھروں سے بھی ڈرنا شروع کردیا ہے جبکہ میاں صاحب کی ترقی دھوکہ تو خان صاحب کی تبدیلی جھوٹ ہے۔ سازش کے تحت پیپلز پارٹی کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پنجاب سے بولان تک پیپلز پارٹی عوام کے دلوں میں بستی ہے اور کسانوں، مزدوروں اور ماں بہنوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے،حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں، نواز حکومت نے 4 سال تک کوئی وزیر خارجہ نہیں بنایا اور جو وزیر خارجہ بنایا وہ پاکستان کے بجائے نواز شریف کا مقدمہ لڑ رہا ہے، دنیا میں کوئی ملک تنہا نہیں چل سکتا اور دنیا کو اپنا بیانیہ بتانا پڑتا ہے۔


بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، انتہا پسندی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے قوم کو متحد کرنا ہوگا، حکمراں اور سیاسی جماعتیں عوام کو اصل صورتحال نہیں بتا رہے جبکہ سیاستدان کرسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، مسلم لیگ (ن ) اور تحریک انصاف کے پاس کوئی پروگرام اور نظریہ نہیں اور کسان اور غریب عوام دونوں جماعتوں کے ایجنڈے پر نہیں۔ہم حالات سے گھبرانے والے نہیں، عوام کی حمایت اور طاقت پر یقین رکھتا ہوں جبکہ ٹرمپ کی پالیسی پر عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ہم نے ہمیشہ غربت ختم کر نے کے لیے کام کیا، لوگوں کونوکریاں دینا جرم ہے توہاں میں یہ جرم کرتا رہوں گا،اعلان کرتاہوں اقتدارمیں آیا توسرکاری اداروں میں نوکریوں کیدروازے کھول دوں گا۔ اللہ، رسول اور عوام کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اپنے مشن کی تکمیل کروں گا.

فتح جنگ میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نے اس سے پہلے کے پی کے چترال اور مانسہرہ میں جلسے کیے کاغان میں بھی شہید کے خیالوں سے ملا ان کا جوش و جذبہ کبھی نہیں بھول سکتا چنیوٹ میں بھی یہی حال تھا یہ سب کچھ ان لوگوں کو بتانے کے لیے کافی ہے جو روزانہ ٹی وی سکرین پر بیٹھکر کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ایک صوبے تک محدود ہو گئی ہے ان سے کہتا ہوں کہ وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں پورے پاکستان میں پیپلز پارٹی آج بھی عوام میں رچی اور بسی ہوئی ہے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر کے دور میں تھی پیپلز پارٹی ایک وفاقی پارٹی ہے چاروں صوبوں کی زنجیر ہے .

انہوں نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ ہم نے انکی غربت ختم کرنے کے لیے کام کیا عوام جانتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا گیا بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا مگر ہم نے وفاق کی سیاست نہیں چھوڑی ہم کبھی کسی آمر کے سامنے نہیں جھکے اور نہ ہی کسی دہشتگرد سے ڈرے بلاول بھٹو نے کہا کہ آج میں ایسے وقت میں آپ سے مخاطب ہوں جب ہمارا ملک ایک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے مشرقی یا مغربی بارڈر ہو یا پڑوسی ملک سے تعلقات ہوں کہیں سے کوئی اچھی خبر نہیں آرہی اب امریکہ نے بھی آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں ٹرمپ نے ایک طرح کی دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو وہ ہمیں بدل دیں گے یہ ملک جو خود دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے ملک جو دہشتگردی کے خلاف لڑ رہا ہے ہمارا ہر طبقہ دہشتگردی کا شکار ہوا اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہیں ہمارے علاقے میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ہیں یہی الزام پہلے بھی لگاتے تھے مگر اب تو دھمکی بھی آگئی ہے لگ ایسے رہا ہے کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہو چکا ہے دنیا ہماری بات ماننے کو تیار نہیں ہم پر کوئی اعتماد نہیں کر رہا ہے کون اس کا ذمہ دار ہے؟

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی ہوتی ہے مگر ن لیگ حکومت کی تو کوئی خارجہ پالیسی ہے ہی نہیں آپ دنیا میں اکیلے نہیں چل سکتے دنیا کے ساتھ چلنا ہوتا ہے اسے قائل کیا جاتا ہے مگر ان حکمرانوں نے کوئی موقف کیا بتانا تھا انہوں نے تو چار سال تک کوئی وزیر خارجہ نہیں بنوایا اب جب وزیر خارجہ بنا تو بجائے اس کے کہ وہ دوسرے ممالک میں جاتا پاکستان کا موقف بیان کرتا وہ تو جی ٹی روڈ پر کھڑا ہو کر لوگوں سے پوچھ رہا ہے کہ میرے قائد کو کیوں نکالا گیا؟ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے دو سال سے کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کر دیا ہے جس پر پوری جماعتیں متفق نہیں مگر اس پر مکمل عمل نہیں کیا جا رہا قومی آپریشن صرف ایک پوائنٹ تھا صرف فوجی آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہوتی دہشتگردی انتہا پسندی اور فرقہ پرستی کے خلاف اگر جنگ جیتنی ہے تو پوری قوم کو ایک کرنا ہو گا .

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا ہو گا یہ نہیں کہ کالعدم تنظیمیں نام بدل کر سیاسی جماعتیں بنا لیں اور پھر الیکشن لڑ کر حکومت کی مدد سے اسمبلی میں آکر بیٹھیں یا پھر کے پی کے کی حکومت اپنے صوبائی بجٹ سے انہی کے ایک مدرسے کو کروڑوں روپے دیتے ہیں اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے دنیا اندھی نہیں ہے وہ دیکھ رہی ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں آپ اپنے ملک کی عوام کو تو دھوکہ دیتے ہو جھوٹ بھی بولتے ہو مگر دنیا نہ آپ کے دھوکے میں آئے گی اور نہ آپ کے جھوٹ کو قبول کرے گی مگر یہ بات نا اہل حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آرہی .

انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ ملک اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے ہمیں نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے میری ان سارے معاملات پر نظر ہے مگر یہ ہر حکمران اور سیاسی جماعتیں ان چیلنجز کی طرف نہیں دیکھ رہے یہ عوام کو اصل صورتحال نہیں بتا رہے یہ لوگ صرف کرسی کی سیاست کر رہے ہیں آپس میں لڑ رہے ہیں الزامات اور گالم گلوچ کی سیاست کر رہے ہیں ن لیگ ہو یا پی ٹی آئی میاں صاحب ہو یا خان صاحب ان میں نہ تو اہلیت ہے اور نہ صلاحیت ہے کہ یہ ملک کے مسائل حل کر سکیں ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں قوم کو حوصلہ دے سکیں اس مشکل سے نکال سکیں ان کے پاس نہ پروگرام ہے نہ منشور اور نہ نظریہ ہے یہ دائیں بازو کی سیاست کر تے ہیں غریب ان کے ایجنڈے میں نہیں ان کا اگر کوئی ایجنڈا ہے تو بس اقتدار حاصل کرنا اور ہمیشہ اقتدار میں رہنا ہے .

انہوں نے مزید کہا کہ میاں صاحب کی ترقی دھوکہ اور خان صاحب کی تبدیلی جھوٹ ہے میاں صاحب کس ترقی کی بات کر رہے ہیں لوگ پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں نہ گیس نہ بجلی ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے پاکستان کی ساری حکومتوں نے ملکر بھی اتنا قرض نہیں لیا جتنا ن لیگ نے ان چار سالوں میں لے لیا ہے برآمد ات کم اوردرآمد بڑھتی جا رہی ہے انڈسٹری بند ہو رہی ہے تاجر پریشان ہو رہے ہیں کسان فصل کو رو رہا ہے غریب کے لیے نہ صحت کی سہولت ہے نہ ان کے بچوں کے لیے اچھی تعلیم ہے اور یہ ترقی کے دعوے کر رہے ہیں اس کو ترقی کہتے ہیں میاں صاحب آپ خود نااہل اور آپ کی حکومت ناکام ہے.

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف خان صاحب کے لیے کیا کہوں میں کے پی کے کی حالت دیکھ کر آیا ہوں جھوٹ ہی جھوٹ ہے انکی تبدیلی کے سب دعوے جھوٹے ہیں جب بھی لوگوں کو خان صاحب کی ضرورت پڑتی ہے تو خان پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے پشاور کے لوگ ڈینگی کا شکار ہو رہے ہیں اور خان صاحب آپ سکھر میں تقریر فرما رہے ہیںخان صاحب آپ دہشتگردوں سے تو ڈرتے ہو کیا آپ نے مچھر سے بھی ڈرنا شروع کر دیا ہے ایک گھوٹکی کا پیر ہے جو زبردستی نکاح پڑھاتا ہے جو اقلیتوں کا دشمن ہے دوسرا ادوار سے تعلق رکھنے والا سابق وزیر اعلی جو سندھ کا واحد وزیر اعلی ہے جو کو کرپشن چارجز کی وجہ سے ہٹایا گیا یہ ہے خان کی تبدیلی یہ ہے ان کا کرپشن کے خلاف جہاد ،میں اسی لیے کہتا ہوں یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں یہ صرف اپنی ذات کے لیے سیاست کرتے ہیں یہ صرف اپنے لیے اقتدار چاہتے ہیں.

میں عوام سے کہتا ہوں کہ آپ ان حالات سے مایوس نہ ہوں اب پیپلز پارٹی کا جھنڈا میں نے اٹھا لیا ہے ہم ان حالات سے گھبرانے والے نہیں انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو تب اقتدار ملا جب ملک دو ٹکڑے ہو چکا تھا 90ہزار فوجی ہندوستان کی قید میں تھے ملک کی معیشت بیٹھ چکی تھی پوری قوم مایوسی کا شکار تھی مگر اس قوم نے دیکھا کہ کس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ذہانت سے نہ صرف فوجی قیدری آزاد کرائے بلکہ اپنی سرزمین بھی واپس لی اس ملک کو ایٹمی طاقت بنوایا متفقہ آئین دیا معیشت کو بحال کیا۔بے زمین کسانوں کو زمینوں کا مالک بنایا نئے نئے ادارے بنائے بے نظیر بھٹو نے جب حکومت سنبھالی تو انہوں نے بھی آپ کو مایوس نہیں کیا جو کچھ ہو سکا انہوں نے کیا زرداری نے مشکل حالات میں پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ایک عوام اور جمہوری حکومت قائم کی 73کا آئیں بحال کیا پیپلزپارٹی صرف ملک کی خدمت کرتی ہے جب ضرورت پڑتی ہے تو اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کرتی ہے میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا اس ملک کو آگے لے جائوں گا غربت کا خاتمہ کریں گے تعلیم و صحت سب کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید وسیع کریں گے مزدور اور کسانوں کو اس کا حق دیا جائے گا ہم مساوات پر مبنی معاشرہ بنائیں گے.

انہوں نے کہا کہ  امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر آپ نے گھبرانا نہیں پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ ہے جو نہ صرف دہشتگرد وں کو للکارتی ہے جبکہ امریکہ کی بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے میں اس طرح عوام کی عدالت میں کھڑا ہو کر اس جرم کو قبول کرتا ہوں میں ایک سوشل ڈیموکریٹک ملک بنانا چاہتا ہوں جو کسی کا حق نہ کھا سکے جب ہم مساوات کے فلسفے کو اپنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کی یہ منزل ہے میری منزل ہے۔جلسے سے اپنے خطاب میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ایک دوست نے کہا کہ ہمارا مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے،ہمارا مقابلہ پی ٹی آئی سے نہیں، ہمارا موازنہ ان جماعتوں سے نہ کیا جائے جو سازشوں اور بیک ڈور سے حکومت میں آتی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ میاں صاحب پوچھتے ہیں کہ ان کا قصورکیا ہے؟میاں صاحب آپ کا قصورکیا ہے،وہ ہم سے نہیں عوام سے پوچھیں،کوئی شک نہیں کہ سیاست میں کرپشن کا وائرس آگیاہے، ہم اقتدار کی سیاست نہیں کرتے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کاجلسہ پیپلزپارٹی کی پنجاب میں موجودگی کا ثبوت ہے، حکمرانی کا حق صرف عوام کو ہے کسی اور کو نہیں، نام نہاد سیاستدان کہتے ہیں کہ ہمیں وزیراعظم بنایا جائے،ملک کے عوام کی آخری امید بلاول بھٹو ہے، عوام کو بلاول کی قیادت چاہیے، 70 سال کے بوڑھیکی نہیں۔

خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ آج زرداری بری ہو رہے ہیں، تم غروب ہو رہے ہو اور ہم طلوع ہو رہے ہیں، کرپشن کے باوجود پوچھتے ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے، ہمارے ساتھ وہ قوتیں نہیں جو سازشوں سے اقتدار میں آنا چاہتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اپنے صوبے میں اقتدار کی طاقت کھو چکی ہے،اللہ جانتا ہے ہمارا مقابلہ پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں،ہم نہ رکتے ہیں نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی بھاگتے ہیں۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قمرزمان کائرہ کا کہنا ہے ،کہ مخالفین کہتے ہیں پیپلزپارٹی ختم ہوگئی ہے، مخالفین مٹ گئے لیکن پیپلزپارٹی ختم نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف آپ گھرگئے ہیں لیکن حکومت اوروزیراعظم آج بھی آپ کا ہے،نوازشریف آپ پھر بھی کہتے ہیں آپ کو انصاف نہیں ملا.