کتاب میلہ وسیب اور آبی ریلہ ....

کتاب میلہ وسیب اور آبی ریلہ ....

مجلس ترقی ادب کے زیر اہتمام کتاب سے محبت کی تجدید کے لئے ”کتاب میلہ اور نوجوان شعراءکا مشاعرہ کروایا گیا ابھی بادل غضب ناک نہیں ہوئے تھے ابھی ”وسیب“ کی شاعری آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ منصور آفاق کا جنم میانوالی کا ہے جہاں انسانوں کے حقیقی دکھوں کی آشنائی اور وسیب کے مشترکہ دکھ شاعری میں یکجا ہو کر رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ 

میرے بہت سے احباب کا تعلق وسیب سے ہے خوشحال پنجاب کے بے فکرے شاعروں کی نسبت جنوبی پنجاب کے شعراءو ادبا کی تصانیت میں پرکھوں کے دکھوں کا رس نچڑتا ہے بے انصافی پر بلبلاہٹ لیکن لڑنے کی طاقت موجود ہے میٹھی سرائیلی زبان میں لہجے کی کرواہٹ اور بھوک کا زہر گھولنے والے آج بھی بے حس حکمران ہیں ہمیں نہیں رکھتی جبکہ اس پر اس قدر اخراجات آتے ہیں جو تین چار بیرونی دوروں اور دس پندرہ دعوتوں کے ہیں۔

ہمارے فوجی پھر بھی بلوچستان میں امداد کرتے ہوئے راہ حق میں جاں بحق ہوئے مگر ایک بھی سیاست دان نہ پانی میں ڈوبا نہ مرا 

”برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر“

چھوٹی عمروں کے قلمکار جیسے صباحت عروج ، تہذیب باقی ، اظہار سید ذری اشرف عمران راہب و دیگر دن رات محدود وسائل لیکر تونستہ کوہ سلیمان وسیب کے سارے علاقوں میں سامان کی پوٹلیاں دوائیاں بانٹتے پھر رہے ہیں وہاں گندم کے بھرے بھڑولے زمین اور پانی میں گھل کر اپنی توہین پر خوشبوکا الٹ ہو گئے ہیں۔

اس سیلاب بلا سے قبل منصور آفاق جو صدر نشین مجلس ترقی ادب ہیں نے محدود وسائل ہی میں پورے 2 کلب روڈ کو کتابوں کا میلہ بنا ڈالا ایک طرف فوک فنکاروں کی گائیکی تو دوسری طرف نوجوان شعراءکا مشاعرہ مرتب کیا جسے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ سینئرز نے بھی سراہا لوگوں کو سو سو مشاعروں میں ایک ہی غزل سنانے والوں سے نجات ملی تازگی کا جھونکا مسائل کو قلمبند کرتی شاعری جس میں مشروم خان اور تہذیب بانی قدیم شاعرانہ روایت اور جدید جوچتی زندگی کے مسائل کو شاعری میں ڈھالتے دکھائی دیئے ۔

یہ بھی سچ ہے کہ جیسے پچھتر برسوں میں پاکستانی سیاست رینگتی رہی اسی طرح مجلس ترقی ادب پر براجمان ادیب بھی بس 

”حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے “

کے مصداق ایک قدم نہیں چلے مگر زمانہ چونکہ تیز رفتای سے چل رہا تھا پیچھے رہ جانے والی مجلس ترقی ادب کی عمارت کھنڈر ہوتی گئی دہائیوں تلک کوئی خاص اشاعت کا اہتمام نہ ہوا بلکہ تخلیقی کتابوں کی بجائے ایم فل کے مقالے چھاپے گئے آپ کے مجلس ترقی ادب نے سستی کتابوں کے عنوان سے بہت زیادہ کلاسیک اور مشہور کتابوں کو محض سو روپے پوری قیمت اور پچاس روپے آدھی قیمت پر چھاپا اور ہر خاص و عام کی رسائی ممکن بنا دی اس کتاب میلہ میں کتابوں کے انچارج محمد بوٹا ، لائبریرین مہرین ، زبیر اور سب سے بڑھ کر معروف شاعر تنقید نگار محقق شفیق خان نے چار چاند لگا دیئے ۔ 

مجلس ترقی ادب آج جس مقام پر سرعت سے سفر کر کے نئی بلڈنگ ای لائبریری جدید ہال دفاتر لٹریری میوزیم اور سب سے بڑھ کر چائے خانہ بنا ڈالنے کی ”جناتی“ قوت سمیرہ چشتی اور منصور آفاق کے کمیشن کی وجہ سے ہے۔سمیرہ نہ جانے کس مٹیریل سے بنی ہے صبح آٹھ بجے دیکھو تو دفتر رات آٹھ بجے تقریبات کرواتی ہوئی پوری دوپہر ٹھیکیدار مزدوروں سے کھپتی ہوئی نہ تھکتی ہے نہ سوتی ہے نہ کبھی آرام کرتی ہے ۔ 

مجلس ترقی ادب کی خاموش ٹھہری ہوئی ساکت عمارت میں زنگ آلود فائلوں دیمک زدہ مسودوں قیمتی مخطوطوں کو جس محبت سے محفوظ کیا گیا ہے اس کا سہرہ منصور آفاق کے سر ہے۔ جنہوں نے مخص سال بھر میں پوری بیورو کریسی کے سرار رموز سے بھی آگاہی کی پی این اسکیموں کا بھی اجراءکیا عمارت بھی بنائی کتابیں بھی شائع کیں۔ ان کے ہمراہ شعراءو ادبا کا ایک میلہ رہتا ہے کہ اس کی وجہ منصور آفاق کی بے نیازی اور شاعرانہ فقر ہے وہ چونکہ کسی سے حسد کی پوزیشن میں نہیں کہ خود تخلیقی دولت سے چھلک رہے ہیں اس لئے سب کو جگہ دیتے ہیں بارہ ہزار غزلوں پر مشتمل ان کا دیوان کسی اور ادارے سے چھپ رہا ہے ۔ یہ پراپیگنڈہ غلط ہے کہ جہاں رائیٹر ہو وہ دوسروں کی راہیں مسدود کرتا ہے اس کی تشریخ یوں کی جا سکتی ہے کہ رائیٹر اگر خالص ہو تو کسی کا دستہ نہیں روکتا مگر تخلیقی رس کی عدم موجودگی اس کے خشک ذہن کو اور بھی بنجر کر دیتی ہے ۔ 

ڈرامہ نگار کالم نگار شاعر منصور آفاق اپنی ذات میں لبالب ہے اسے دوسروں کو پروموٹ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ 

جو کتاب میلہ چودہ اگست کی پچھتر سالہ تقریبا ت کے حوالے سے لگا اس میں کراچی میں سے لیکر خیبر تلک بے پناہ پبلشروں نے شرکت کی۔ چار دن مجلس ترقی ادب واقعی ادب کی ترقی کی مجلس بن گئی۔

شاکر شجاع آبادی کو سنا تو پتہ چلا وسیب پر کیا بے انصافی کے بادل برستے ہیں اس میں ہم نہ شامل ہوتے ہوئے بھی مجرم ہو جاتے ہیں۔ 

”بدی کرتا ہے دشمن اور ہم شرمائے جاتے ہیں“

مگر اتنے بڑے وسیب کے اپنے منتخب نمائندے بھی جب اپنی زمین کے لئے کچھ نہیں کرتے تو پھر تو دوسرے خوشحال سیاست دانوں کو مزید بے حسی کے جواز مل جاتے ہیں ۔مدد کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں چاہے ہوتی مگر بے حسی کو ہزاروں جواز چاہئے ہوتے ہیں۔ 

کئی لوگ کہتے ہیں سندھ کا چولستان ہو یا وسیب کا علاقہ یا بلوچستان کے زیر آب علاقے یہ لوگ اپنا علاقہ کیوں نہیں چھوڑ دیتے ایسے بے معنی سوال کرنے والوں کو زمین سے محبت پر کھوں کی قبروں اور اپنے دریاﺅں پہاڑوں صحراﺅں سے کوئی مطلب نہیں ہوتا یہ بس جہاں کرنسی ہوتی ہے اسے ہی وطن بنا لیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں وطینت کسے کہتے ہیں مٹی کی خوشبو کس بلا کا نام ہے اپنوں کی گلیاں کیسی ہوتی ہیں ۔ بچپن کی آنکھ مچولی کچے میں پلنے والوں کے خوابوں جیسی ہوتی ہے۔ 

حرف آخر دور حاضر کے عظیم شاعر وحید احمد کی پرورد نظم ....

انتظار ....

بڑی مشکل سے دن کاٹا 

کبھی قہوے کے نشتر سے 

کبھی چائے کے آرے سے 

کبھی سگریٹ کی چھینی سے

کبھی سوہان پانی کے کڑے تیزاب دھارے سے 

بڑی مشکل سے دن کاٹا 

برادہ وقت کا ہاتھوں سے جھاڑا 

زرد گرد آلود پوریں

جو گزشتہ دن لمحوں سے آئی تھیں

شام کے آنچل سے پونچھیں

اور پھر رات کے نمکین نمید بحراسود میں اتر کر 

اس سفینے کے لئے پتھرا گیا 

جس میں اسے میرے لئے ساحل پہ آنا تھا

میں اب تک پنڈلیوں کی مچھلیاں پانی میں ڈالے

بحرا سود میں کھڑا ہوں

مصنف کے بارے میں