اخروٹ کے انتہائی اہم فوائد

اخروٹ کے انتہائی اہم فوائد

 زمانہ قدیم سے اخروٹ کو ذائقے اور جسمانی قوتی فوائد کے حوالے سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ روایتی طور پر اخروٹ کے تیل سے پیٹ میں درد (مروڑ)، باسور (Hemorrhoid)، دست اور انتڑیوں کی سختی کو نرم کرنے جیسی کئی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔


تاہم ہم آپ کو یہاں اخروٹ کے دیگر اہم فوائد کے بارے میںبتائیں گے۔

دماغی صحت: اخروٹ میں شامل اومیگا فیٹی ایسڈ نامی چکنائی دماغی عمل کو بہتر بنا کر ڈپریشن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر دیتی ہے۔

قبض کش: اخروٹ قبض کی صورت میں فوری آرام پہنچانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہ معدے میں پہنچ کر فضلہ میں حرکت پیدا کرکے اسے آگے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

قوت قلب: اخروٹ میں شامل ایسڈ غیرضروری اور گندے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں نہایت معاون ہے، جس کے بعد صحت مند کولیسٹرول پیدا ہوتا ہے، جو قوت قلب کے لئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔  ایک اخروٹ کا استعمال جسم کو ہائی بلڈپریشر کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی فراہم کرتا ہے۔

حمل کے دوران: اخروٹ میں شامل زنک، میگنیشیم جیسے اجزا انسانی جسم کے لئے نہایت ضروری ہیں، اس لئے حاملہ خواتین کے لئے ان کا استعمال نہایت نفع بخش ہے۔

کھانسی اور دمہ: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانسی ، دمہ کے علاج کے دوران اخروٹ کا استعمال نہایت موثر ہے۔

مضبوط ہڈیاں: اخروٹ میں شامل اجزا ہڈیوں کی مضبوطی اور نشوونما کے لئے نہایت ضروری ہیں۔

پرسکون نیند: اخروٹ میں میلاٹونین نامی ایسڈ موجود ہوتا ہے، جو جسم کے اندرونی نظام  کو چلانے کا ذمہ دار ہے۔ لہذا جب جسم میں میلاٹونین کی مقدار پوری ہوتی ہے تو آپ رات بھر پُرسکون نیند لے سکتے ہیں۔

جلد کو نم کرنا: اخروٹ میں شامل وٹامن ای، بی ون، بی ٹو اور بی تھری نہ صارٖف جلدی خشکی بلکہ جھریوں کے خاتمے کا بھی موجب ہے۔

بالوں کو سیاہ کرنا:بالوں کی سیاہی کو قائم رکھنے اور سفید ہوتے بالوں کو روکنے کے لیے اخروٹ کا سبز چھلکا 15 گرام،پھٹکڑٍی 2 گرام،بنولے کا تیل 250 گرام لے لیں۔بنولے کے تیل کو تام چینی کے برتن میں ڈال کر اس میں اخروٹ کے چھلکے ڈال لیں اور اسے ہلکی آنچ پر اتنا گرم کریں کہ اخروٹ کے چھلکے میں سے نمی اڑ کر مکمل خشک ہو جائے، یعنی رنگت سیاہ ہو جائے پھر تیل کو چھان کر استعمال کریں۔

اخروٹ کے یہ فوائد اسے براہ راست کھانے کے علاوہ دیگر غذاؤں میں ملاکر کھانے سے بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔

نیوویب ڈیسک< News Source