فیصل آباد: پنجاب میں دو لاکھ 71ہزار 700ایکٹر رقبہ پر آم کے باغات ہیں، جن سے سالانہ 12لاکھ 80ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے، پاکستان آم پیدا کرنے والا دنیا بھر کے ممالک میں چھٹے نمبر آیا گیا، پاکستانی خوش ذائقہ اور لذید آم دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر برآمد کیاجائے گا۔ امریکہ کی تین ریاستوں (مشی پی، ٹیکساس اور لووا) میں آم درآمد کرنے کے لئے ریڈیشن پلانٹ نصب کردئیے گئے ہیں۔

یہ ا یڈیشن پلانٹس لگنے سے آموں کی برآمدات کے لئے پاکستانی تاجروں کو نیا موقع میسر آگیا ہے۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستانی آم کی بہت مانگ ہے لیکن امریکہ ریڈیشن کیا گیا آم ہی درآمدکرتا ہے۔ مذکورہ تین ریڈیشن پلانٹس نصب کرنے کے بعد اب پاکستان سے آم بغیر ریڈیشن امریکہ بھجوایا جاسکتا ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں لگے ریڈیشن پلانٹس کے ذریعہ ان آموں کو ریڈیشن کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان آم پیدا کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے اور صرف پنجاب میں دو لاکھ 71ہزار 700ایکٹر رقبہ پر آم کے باغات ہیں جن سے سالانہ 12لاکھ 80ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ امریکہ کے سٹوروں پر پاکستانی آم کی بہت مانگ ہے اور اگر مسلسل آم فراہم کیا جائے تو امریکہ میں اس کی مزید مانگ بڑھ سکتی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق آم کے تاجروں کو کم قیمت پر آم امریکہ برآمد کرنا چاہیے تاکہ وہاں موجود منڈی کو کوئی دوسرا ملک کم قیمت پر آم مہیا کر کے قبضہ نہ کرلے۔