بھارتی دراندازی، اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

 بھارتی دراندازی، اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ
بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے اور جنوبی ایشیا کے امن کو اپنے ہاتھوں سے آگ میں نہ دھکیلے، شہباز شریف۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: مظفرآباد سیکٹر سے پاکستانی حدود میں بھارتی ایئرفورس کے طیاروں کے داخل ہونے پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھرپور ردعمل سامنے آیا ہے۔


قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھارتی دراندازی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اگر بھارت جنگ شروع کی تو نئی دہلی پر پاکستان کا پرچم لہرائے گا اور بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے اور جنوبی ایشیا کے امن کو اپنے ہاتھوں سے آگ میں نہ دھکیلے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف مودی غریبوں کے پاؤں دھو رہے ہی تو، دوسری طرف بے گناہ نہتے کشمیریوں کا خون بہا رہے ہیں۔ نریندر مودی جنوبی ایشیا کے بے گناہ انسانوں اور غریبوں کو جنگ کی بھٹی میں نہ دھکیلیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ہم حالات جنگ میں آ چکے ہیں اور اب پارلیمنٹ کو فیصلے کرنے چاہئیں۔  ایسی کوئی بات نہ کی جائے جس سے اختلاف نظر آئے جبکہ ہمیں دنیا اور بھارت کو اپنا اتحاد دکھانا ہے۔

خواجہ آصف نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج شام کو ہی مشترکہ اجلاس بلائیں یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے تاکہ ایک آواز جائے۔ ہمارے جوانوں اور افواج کو پتا چلے کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت سیاست نہ کریں بلکہ یہ اتحاد اور قومی یکجہتی کا وقت ہے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ بھارت نے جو طبل جنگ بجایا ہے پاکستان کی مسلح افواج اس کے لیے بالکل تیار ہیں اور بھارت کی جارحیت کا بھرپور اور فوری طور پر جواب دیں گے۔

شیریں رحمان نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں پارلیمان کا فوری طور پر مشترکہ اجلاس بلائے اور دنیا کو پیغام دیا جائے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان اس کے لیے بالکل تیار ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے بھارتی طیاروں کی ایل اوسی کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عالمی برادری بھارت کا جنگی جنون دیکھ لے، بزدل بھارت رات کی تاریکی میں چھپ کر وار کرنے کی کوشش کرتا ہے، ہم تیار ہیں، جس طرح پاک فضائیہ نے بھارتی طیاروں کو بھگایا وہ قابل داد ہے۔

راجا فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری عوام ذرا برابر خوفزدہ نہیں ہیں، 45 لاکھ کشمیریوں کی لاشوں پر سے گزر کر ہی کوئی پاکستان تک پہنچےگا، آزاد کشمیر کے عوام بھارت کا جنگی جنون کئی مرتبہ دیکھ چکے ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے، کشمیریوں نے بھی ٹھان لی ہے وہ بھارتی فوج کو سرینگر سے بھگا کردم لیں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کا فوری ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس کی صدارت شاہد خاقان عباسی کریں گے اور اجلاس میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے امور پر مشاورت ہو گی۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی افواج دنیا کی بہترین فوج ہیں۔ اگر بھارت نے جارحیت کی تو پاک فوج اس کا منہ توڑ جواب دے گی۔

مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے، ہم پرامن ملک ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں، ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔