ڈریکونین قانون…ایک اور حکومتی کامیابی…!

ڈریکونین قانون…ایک اور حکومتی کامیابی…!

اتوار کے روز صدر مملکت کے دستخطوں سے الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور پیکا ترمیمی آرڈیننس جسے اٹارنی جنرل نے ڈریکونین قانون کا نام دیا ہے کے جو دو آرڈیننس جاری ہوئے ہیں، کیا اس کے بعد بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ جناب عمران خان کی حکومت کی کامیابی کا ریکارڈ صفر ہے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جناب عمران خان کی حکومت  ساڑھے تین یا پونے چار سال کے دور اقتدارمیں پارلیمنٹ سے اپنی مرضی کے بل اور قوانین منظور کروانے میں کامیاب رہی ہے تو اس کے ساتھ جہاں ضرور ت پڑی ہے اسے صدر مملکت کی منظور ی اور دستخطوں سے اپنی مرضی کے آرڈنینس جاری کروانے میں بھی کبھی کسی مشکل یا ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے ۔ اتوار کو حکومت نے بڑی چابک دستی سے پریونیشن آف الیکڑانک کرائمز ایکٹ Prevention of Electronic Crimes Act (پیکا) اورالیکشن ایکٹ میں ترامیم کے جودو آرڈنینس جاری کردیے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتیں اور متعلقہ طبقات زندگی سے تعلق رکھنے والے صائب الرائے افراد ان آرڈیننسوں کی  مخالفت کررہے ہیں۔ پیکا آرڈیننس میں ترمیم کو شخصی آزادیوں کے منافی اور اظہار رائے پر پابندی قرار دیا جارہا ہے ۔ تو الیکشن ایکٹ کے ترمیمی آرڈیننس کو الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت اورآئندہ انتخابات میں دھاندلی کے نئے منصوبے کے مترادف سمجھا جارہا ہے۔ تاہم حکومتی زعماء کواس مخالفانہ اور احتجاجی بیان بازی کی کوئی پروا نہیں ۔ وہ اس بات پر شاداں و نازاں ہیں کہ حکومت نے ان آرڈیننسوں کے نفاذ سے اپنے مخالفین کی آواز بند کرنے اور الیکشن میں من مانے نتائج حاصل کرنے کیلئے ضروری اختیارات حاصل کرلیے ہیں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ میڈیا آزا د ہے لیکن فیک نیوز نہیں ہونی چاہیے ۔ فیک نیو ز کی سزا پانچ سال ہوگی اور جرم ناقابل ضمانت اور قابل دست درازی پولیس ہوگا۔ اسی طرح الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے تحت وزرا ء اور اراکان پارلیمنٹ کو الیکشن مہم میں حصہ لینے اور تقاریر وغیرہ کرنے کی اجازت دینے سے حکومت جہاں الیکشن کمیشن کی طرف سے ان پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا  مقصدحاصل کرسکے گی وہا ں خیبر پختوانخوا میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات جو 31مارچ کومنعقدہونگے کی انتخابی مہم میں وفاقی اور صوبائی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے کھل کر حصہ لینے کا مقصد بھی حاصل کرسکے گی ۔ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے آرڈیننس کا مسودہ وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور جناب بابر اعوان کا تیار کردہ ہے تو پیکا ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ وفاقی وزیر قانون جنا ب فروغ نسیم کا تیار کیا ہوا ہے۔ دونوں حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انکی وجہ سے جناب عمران خان کی حکومت کوجو حکومت داری کے ہر شعبے میں تقریباًناکام چلی آرہی ہے اسے قانون سازی کے شعبے یعنی اپنی مرضی کے قوانین اور بلوں کی  پارلیمنٹ سے منظوری لینے  اور ضرورت پڑنے پر اپنی مرضی کے آرڈنینسوں کی صدر مملکت کی منظوری سے جاری کرنے میں کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا ہے ۔ 

بلاشبہ پیکا آرڈیننس کے مسودے کی تیاری اور اس کے نفاذ کا کریڈٹ وفاقی وزیر قانون بیرسٹرفروغ نسیم کو جاتا ہے لیکن اٹارنی جنرل خالد جاوید خان شاید انکویہ کریڈٹ دینے کے حق میں نہیںہیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کو ریگولیٹ کرکے نافذ کریں گے ۔ جوں کا توں نافذ کیا گیا توپھر یہ ڈریکونین لاء ہوگا۔قانون کو ٹھیک کررہے ہیں ۔ اسکا اطلاق ہر کیس پر نہیں ہوگا بلکہ پانچ ہزار میں سے ایک کیس پر ہوگا۔ حکومت کا آزادی اظہارپرقدغن کا کوئی ارادہ نہیں ۔ آرٹیکل 19 کے تحت قانونی تحفظات فراہم ہونے تک پیکا آرڈیننس نافذنہیں ہوگا۔ اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہے ، ہائی کورٹ کی کوشش ہے کہ ترمیمی آرڈنینس کے دانت نکال دیے جائیں۔ میں اس  ضمن میں ہائی کورٹ کی بھر پور معاونت کرونگا ۔ 

پیکا ترمیمی آرڈیننس کب نافذالعمل ہوتا ہے اور کس حد تک موثر ثابت ہوتا ہے ، اس سے ہٹ کر اتنی بات بڑی کھل کر سامنے آچکی ہے کہ عوامی ، سیاسی ، سماجی ،قانونی اورمیڈیا کے حلقے اسکو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور انکی طرف سے اسکی سخت مخالفت کی جارہی ہے ۔ اسے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس میں چیلنج کردیا گیا ۔ عدالت ہائے عالیہ میں دائر دراخوستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرڈیننس آزادی اظہار کا قتل ، بنیادی حقو ق کے منافی اور جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہونے کے ساتھ عدلیہ کی آزادی کو محدود کرنے اور حکومت کی طرف سے مخالفین کو شکست دینے کی کوشش ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عزت مآب اطہر من اللہ نے اس کیس کی ابتدائی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے ہیں وہ کافی چشم کشا ہیں ۔انکا کہنا ہے کہ دنیا میں ہتک عزت فوجداری جرم نہیں ۔ عوامی نمائندوں کیلئے یہ قانون ہونا ہی نہیں چاہیے ۔ ایف آئی اے کے ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور سیکشن 20کے تحت کسی شکایت پر فوری گرفتاری عمل میں نہ لائی جائے ۔ جناب چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے ساتھ حکومت میں شامل بعض افراد کے بھی اس آرڈیننس کے بارے میں تحفظات سامنے آچکے ہیں ۔ اٹارنی  جنرل خالد جاوید خان پہلے ہی اسے ڈریکونین لاء نام دے چکے ہیں۔ اب وزیر آئی ٹی امین الحق نے بھی اس آرڈیننس کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دے کر وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے۔ غرضیکہ آرڈیننس نافذ العمل تو ہوگیا ہے لیکن اسکی مخالفت میں انتہائی جاندار آوازیں سامنے آرہی ہیں۔ 

پیکا ایکٹ ترمیمی آرڈیننس میں حتمی طور پرکچھ تبدیلی سامنے آتی ہے یا نہیں اور اعلیٰ عدلیہ کس حد تک اس کے دانت نکالتی ہے ۔ اس بارے میں جلد ہی واضح ہوجائے گا۔ تاہم اتنی بات اظہر من الشمس سمجھی جاسکتی ہے کہ قانون سازی جس طرح کی بھی ہو ، جس انداز کی بھی ہوجناب عمران خان کی حکومت بڑی کامیابی سے اسے نافذ کرنے میں کامیاب چلی آرہی ہے ۔ حکومت کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ نئی قانون سازی سے عوام کے بنیادی حقوق اور اظہار رائے پر زد پڑ رہی ہے یا الیکشن کمیشن کے اختیار ات اسکی زد میں آرہے ہیں یا اسکا تعلق منی فنانس بل کی منظوری سے عوا م پر بے پناہ ٹیکسوں کا بوجھ پڑنے سے ہویا آئی ایم ایف کی ہدایت پر سٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق قوانین کی منظوری سے ملکی خودمختاری پر زد پڑ رہی ہے  ۔ حکومت بڑی چابک دستی ، مہارت اور ہوشیاری سے ان قوانین کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اوراپوزیشن جماعتیں بلند بانگ دعووں اور سینیٹ کے ایوان میں عددی برتری رکھنے کے باوجود حکومت کو اپنی مرضی کے قوانین یا بل منظور کروانے سے نہیں روک پائی ہیں ۔ کل کلاں حکومت پیکا ایکٹ اور الیکشن کمیشن ایکٹ کے ترمیمی آرڈیننس پارلیمنٹ میں بلوں کی صورت میں پیش کر کے انکی منظوری بھی لے سکتی ہے  اوراپوزیشن حسب سابق بغلیں بجاتی رہی گی یا سانپ گزرنے کے بعد لیکیر پیٹتی رہے گی ۔

مصنف کے بارے میں