روزانہ ایک انڈا بچوں کی دماغی نشوونما اور افعال کو بہتر بنانے میں معاون

روزانہ ایک انڈا بچوں کی دماغی نشوونما اور افعال کو بہتر بنانے میں معاون

واشنگٹن: واشنگٹن یونیورسٹی کے براﺅن اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ایک انڈا چھ ماہ تک کھانا بچوں کے اندر کولین اور ڈی ایچ اے نامی اجزاءکی سطح بڑھاتا ہے جو کہ دماغی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اس سے قبل مختلف رپورٹس میں یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ بچوں کو انڈے کھلانا ان کی نشوونما کو بہتر بناتا ہے۔ اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ کی طرح انڈے بھی بچوں کی ابتدائی نشوونما میں مدد دیتے ہیں جبکہ متعدد غذائی اجزاءبھی ان کے جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔


تحقیق کے مطابق انڈے ضروری فیٹی ایسڈز، پروٹین، کولین، وٹامن اے اور بی 12 سمیت دیگر اجزاء سے بھرپور ہوتے ہیں اور ان کا روزانہ استعمال جیب پر بھاری بھی نہیں پڑتا۔ اس تحقیق کے دوران چھ سے نو ماہ کے 163 بچوں کا جائزہ لیا گیا اور ان میں سے 80 کو چھ ماہ تک روزانہ ایک انڈا استعمال کرایا گیا جبکہ دیگر کو دودھ تک ہی محدود رکھا گیا۔

اس کے بعد ان جسم میں وٹامن اور منرلز لیول کا تجزیہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ انڈوں کا استعمال ابتدائی نشوونما کے لیے بہت اہم ہے۔

تحقیق کے مطابق جو بچے انڈے کھاتے ہیں ان کے جسم میں کولین اور ڈی ایچ اے کی سطح نمایاں حد تک زیادہ تھی جو کہ دماغی نشوونما اور افعال میں اہم کردار ادا کرنے والے اجزاء ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں