آئی جی سندھ نے راؤ انوار کے الزامات کو مسترد کردیا

آئی جی سندھ نے راؤ انوار کے الزامات کو مسترد کردیا

کراچی:آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے راؤ انوار کے الزامات کو مسترد کردیا۔ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے الزامات کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ قانون سے بچنے کیلئے بے بنیاد الزام تراشی کا سہارا لے رہے ہیں۔ نہ کبھی ماورائے عدالت مقابلوں کے احکامات دیے اور نہ یہ سندھ پولیس کی پالیسی رہی ہے۔


راؤ انوار جھوٹ بولنے سے باز آجائیں، خود کو قانون کے حوالے کریں اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوجائیں۔ میرا کردار اور کیریئر سب کے سامنے اور کھلی کتاب کی طرح ہے، جھوٹ اور سچ کا سب کو اندازہ ہے۔ قبل ازیں نقیب اللہ محسود کے مبینہ پولیس مقابلے میں معطل ہونے والے ایس ایس پی راؤ انوار نے پولیس مقابلوں کی ذمہ داری آئی جی سندھ پر ڈالی تھی اور کہا تھا کہ پولیس مقابلے آئی جی سندھ کی پالیسی کا نتیجہ ہے،انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی غلط کام نہیں کیا تو پھر گرفتار کیوں دوں۔

راو انوار نے آئی جی سندھ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انکاؤنٹرز آئی جی سندھ کی پالیسی ہے۔

جب کوئی غلط کام نہیں کیا تو پھر گرفتاری کیوں دوں، پولیس کے اعلیٰ حکام کے اجلاسوں میں کہا گیا کہ جو بھی دہشتگرد ہے اسے زمین پر نہیں ہونا چاہیے، اعلیٰ پولیس افسران کے احکامات پرعمل کیا ہے۔ اگر میں نے سازش کی ہے تو پھر اعلیٰ پولیس افسران بھی سازش میں آتے ہیں، اعلیٰ پولیس افسران بھی مقدمے کی دفعہ 109 میں آئیں گے۔ نقیب اللہ محسود قتل کیس کے معاملے پر جے آئی ٹی بنائی جائے اس کے سامنے پیش ہوں گا۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ گرفتاری تب دوں جب کوئی غلط کام کیا ہو، جب کوئی غلط کام نہیں کیا تو پھر گرفتاری کیوں دوں، طریقے سے بات کرتے تو میں خود ساتھ دیتا۔میں خود چاہتا تھا کہ اصل بات پتہ چلے غلطی کس سے ہوئی، پولیس والوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں جو زیادتی ہے، چھاپوں کا سلسلہ نہ رکا تو آئی جی سمیت سب کے خلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کراؤں گا۔

خیال رہے کہ 13 جنوری کو کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کو قتل کر دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ نقیب اللہ محسود کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔