کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر کوئی صادق و امین نہیں رہتا، سپریم کورٹ

کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر کوئی صادق و امین نہیں رہتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کنٹونمنٹ بورڈ ملتان کی انتخابی عذرداری کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار ہمایوں اکبر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ٹریبونل نے بینک اکاؤنٹ نہ بتانے پر 99 ایف کے تحت نااہل کیا۔ ٹریبونل کے فیصلے سے میرا موکل الیکشن کیلئے تاحیات نااہل ہو گیا۔


دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے اپنے اکاؤنٹ میں پڑے 37 لاکھ روپے ظاہر نہیں کیے۔ نواز شریف کے مقدمے میں کہہ دیا ہے کہ اثاثہ چھپانا بد دیانتی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر کوئی صادق و امین نہیں رہتا آرٹیکل 62 ون ایف کی نااہلی ایک سال کی ہو گی، 5 کی یا تاحیات، یہ تعین کرنا باقی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف پر لارجر بینچ 30 جنوری سے سماعت کر رہا ہے۔ لارجر بینچ آرٹیکل 62 ون ایف پر جو بھی فیصلہ دے گا وہی آئندہ کا قانون ہو گا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں