بیجنگ:  چین نے قطبی شاہراہ ریشم کا تصور پیش کر دیا۔

جمعہ کو چینی صدر شی جن پھنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ بین البرعظمی منصوبے کی وسعت کو قطب شمالی تک لے جانے کی اپنی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کو’’ پولر سلک روڈ‘‘ کا نام دیاگیا ہے۔چین نے کہا ہے کہ شاہراہ ریشم کو عالمی حدت کے باعث قطب شمالی تک کھل جانے والے راستوں سے شپنگ روٹس سے تشکیل دیا جائے گا۔

چین نے کہا   کہ سوئز کینال کے بجائے شمالی سمندری راستوں سے جہازوں کی مسافت میں20 روز کی کمی آسکتی ہے۔چین آرکٹک ریاست نہیں ہے تاہم قطبی خطے میں اس کا کردار سرگرم ہے جس کی وجہ سے چین آرکٹک کونسل کا 2013ء سے مبصر چلا آرہا ہے۔چین کا اس خطے میں روس کے یمال مائع گیس منصوبے میں بڑا حصہ ہے جہاں سے مستقبل میں چین کو سالانہ 4 ملین ٹن ایل این جی سپلائی ہو   گی۔

جمعہ کو چین کی ریاستی کونسل انفارمیشن نے شمالی قطب کے حوالے سے امور  پر  چین  کی پالیسی کے حوالے سے چینی حکومت کی طرف سے آرکٹک پالیسی پر پہلی مرتبہ وائٹ پیپر جاری کیا ہے۔وائٹ پیپر چار حصوں پر مشتمل ہے۔ وائٹ  پیپر  میں شمالی قطب کی صورتحال، چین اور شمالی قطب کے تعلقات، چین کی متعلقہ پالیسی اور مقصد، چین کی آرکٹک پالیسی کے بنیادی اصول اور آرکٹک امور میں چین کی شمولیت کے مؤقف پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی گلوبلائزیشن اور علاقائی یکجہتی کے رجحان کے تناظر میں، حکمت عملی، معیشت، سائنسی تحقیق،  ماحولیاتی تحفظ،  جہازرانی اور وسائل کے لحاظ سے آرکٹک کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مرکوز ہو  چکی ہے۔ آرکٹک کا مسئلہ آرکٹک ممالک اور علاقائی مسائل سے تجاوز کر گیا ہے۔یہ بین الاقوامی برادری کے مجموعی مفادات ،بنی نوع انسان کی بقا اور ترقی کے مشترکہ نصیب سے تعلق رکھتا ہے اور یہ عالمی اہمیت اور بین الاقوامی اثرات کا حامل ہے۔

وائٹ پیپر میں کہا  گیا   کہ چین بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کا تصور پیش کرنے والا ہے۔ شمالی قطب کے امور کا مثبت شرکت دار، تعمیر کنندہ اور خدمت گار ہے۔چین آرکٹک امور سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔ چین جغرافیائی طور پر آرکٹک کے قریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ آرکٹک کے قدرتی حالات اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کے چین کے ماحولیاتی نظام اور ماحول پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یوں آرکٹک امور ، چین کے اقتصادی مفادات جیسے زراعت، جنگلات، ماہی گیری اور سمندر کے اقتصادی مفادات سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔

وائٹ پیپر میں مزید کہا گیا کہ آرکٹک کے انتظام و انصرام میں تمام شراکت داروں کی شمولیت اور کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار بڑے ملک کے طور پر، چین آرکٹک کی ترقی کے تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر تمام فریقوں کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہے۔ چین احترام، تعاون، مشترکہ فتح  اور  پائیدار  ترقی کے بنیادی اصول کے مطابق، آرکٹک میں آنے والی تبدیلیوں کے چیلینجز کا مقابلہ کریگا۔ چین آرکٹک کی ایکسپلوریشن، تحفظ، استعمال اور انتظام کے عمل میں حصہ لے گا۔ چین آرکٹک کی مستحکم اور پائیدار ترقی کے فروغ میں سرگرم رہے گا۔

مصنف کے بارے میں