امریکا نئی سرد جنگ سے باز رہے، چین کے صدر کا بائیڈن انتظامیہ کو انتباہ

China’s Xi warns against ‘new Cold War’
کیپشن:   فائل فوٹو

بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کی باگ دوڑ سنبھالنے والی بائیڈن کی نئی انتظامیہ کو انتباہ کیا ہے کہ وہ نئی سرد جنگ سے باز رہے۔

شی جن پنگ کا عالمی اقتصادی فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بیجنگ کے اقتصادی ماڈل کے خلاف محاذ آرائی کی کوشش نئی سرد جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سمیت پوری دنیا عالمی وبا سے نبرد آزما اور اس کیخلاف حالت جنگ میں ہیں۔

چینی صدر کا اپنے پرعزم خطاب میں کہنا تھا کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ انسان اس وبائی آفت کیخلاف جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ اس میں ضرور کامیاب ہونگے۔ انہوں نے اس موقع پر انتہائی خوبصورت مثال دیتے ہوئے کہا کہ سرد موسم کبھی بہار کی آمد کو نہیں روک سکتا اور اندھیری رات کی تاریکی سورج کی کرنوں کا راستے میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب چین دنیا کی معیشت میں امریکہ کو پچھاڑ کر آگے نکل چکا ہے۔ یہ اعدادوشمار اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں چین نے امریکا کے مقابلے میں واضح کامیابی حاصل کر لی ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی پوزیشن پہلے نمبر پر آ چکی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال چین میں ایک سو تریسٹھ ارب ڈالرز کی براہ راست انوسٹمنٹ ہوئی جبکہ امریکا میں اس کے مقابکے میں صرف ایک سو چونتیس ارب ڈالرز کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب چین دنیا بھر کی معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم کر لے گا۔

ایک برطانوی ادارے نے پیشگوئی کی ہے کہ 2028ء تک چین امریکا کو معاشی میدان میں پیچھے چھوڑ دے گا اگرچہ ابھی امریکا کیساتھ اس کی تجارتی جنگ جاری ہے۔