پنجاب حکومت کا آزادی صحافت پر ایک اور وار نئی بات کے اشتہارات چوتھی بار بند

پنجاب حکومت کا آزادی صحافت پر ایک اور وار نئی بات کے اشتہارات چوتھی بار بند

لاہور: پنجاب کی تبدیلی سرکار کا صحافت پر ایک اور کاری وار، اپنے دور حکومت کے ایک سال میں چوتھی مرتبہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں روزنامہ " نئی بات " کے اشتہارات بند کر دیئے، سینکڑوں صحافیوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے کا خطرہ۔


تفصیلات کے مطابق " نئی بات " نئی جہت کے ساتھ مثبت اور روشن پاکستان کے تصور کو لے کر غیر جانبدار صحافت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کو ارباب اقتدار کے سامنے رکھتا ہے تاکہ ارباب اقتدار کو مسائل کی نشاندہی کی جائے اور وہ عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرسکیں لیکن تبدیلی سرکار کو سب اچھا دیکھنے اور سننے کی لت پڑنے کے پیش نظر عوامی مسائل کو اجاگر کرنے پر روزنامہ نئی بات کی کاوش پسند نہیں آئی اور اپنے دور حکومت کے پہلے سال روزنامہ نئی بات کے اشتہارات چار بار بند کرکے اپنی مرضی کی خبریں شائع کرانے اور سب اچھا کا راگ الاپنے پر مجبور کیا جارہا ہے، رواں ماہ میں بزدار سرکار کی جانب سے دوسری مرتبہ اشتہارات بند کر کے ایک طرف سرکاری ادارہ میڈیا کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف سینکڑوں صحافی ورکروں کے روز گار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

واضح رہے کہ تبدیلی سرکار نے پہلے سال میں صحافتی آزادی کے اوپر غیر اعلانیہ شب خون مارنے کیساتھ ساتھ عوام کو کمر توڑ مہنگائی، پڑولیم مصنوعات کو بلند ترین سطح پر پہنچانے کے تحائف دیکر آمریت سے بدترین دور کی یاد تازہ کردی ہے۔صحافتی تنظیموں کی جانب سے روزنامہ نئی بات کے اشتہارات بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کیساتھ ساتھ وارننگ بھی دی گئی ہے کہ اگر بزدار سرکار نے وطیرہ نابدلا تو پھر دمادم مست قندر ہوگا۔