سیاسی صورتحال ن لیگی قیادت کی سنجیدگی کی متقاضی

سیاسی صورتحال ن لیگی قیادت کی سنجیدگی کی متقاضی

لاہورکولاڑکانہ کہنے والی ن لیگ کو حالیہ ضمنی الیکشن میں جس طرح شکست ہوئی اس کا شائد پارٹی قیادت نے سوچا بھی نہ تھا لیکن وقت بڑا ظالم ہے یہ کسی کا نہیں ہوتا یہ بھٹو کا بھی نہ ہوا جو کہتا تھا میری کرسی بہت مضبوط ہے یہی حال ن لیگ کا ہے جن کو گھمنڈ تھا کہ بیس کی بیس سیٹیں جیت جائیں گے مگران کو عزت بچانا مشکل ہوگئی تھی اگر چارسیٹیں نہ ملتیں تو سب کچھ مٹی میں مل گیا تھا ضرورت سے زیادہ اعتماد اور عوام کے جذبات سے کھلواڑن لیگ  کی بدترین شکست کا باعث بنا،ایک جانب تن تنہا عمران خان تھا تو دوسری جانب پورے پاکستان کی تمام سیاسی اور غیر سیاسی طاقتیں اکٹھی تھیں،پنجاب جسے مسلم لیگ ن کا  بیس کیمپ کہا جاتا ہے اور لاہور جہاں کوئی مسلم لیگ ن کے مقابلے میں الیکشن لڑنے یا جیتنے کا تصور نہیںکرسکتا  وہاں سے تحریک انصاف کی جیت نے سومنات کے مندر کو ہلا کر رکھ دیا ہے  اور یہ پنجاب  میں جیت پنجاب کی سیاسی سوچ میں تبدیلی کا اشارہ ہے،اپنے کارکنوں اور امیدواروں کے بجائے لوٹوں کو ترجیح دینے سے ووٹرز میں ناراضگی اور مایوسی پھیلی وہیں مہنگائی نے بھی ووٹرز کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا، سب سے زیادہ سیاسی نقصان پاکستان پیپلز پارٹی کو ہوا جس کی پنجاب میں سیاسی واپسی ناممکن ہوگئی ، نئے عام انتخابات کے حصول کے لیے پی ٹی آئی بہت آگے چلی گئی ہے جس کا نتیجہ آئندہ عام انتخابات میں واضح نظر آئے گی غلط فیصلے ن لیگ کو لے ڈوبے جس کا ایک ثبوت شیخوپورہ کے حلقہ 140 میں تحریک انصاف کے امیدوار کے مقابلے میں میاں خالد محمود کا ٹکٹ دینا تھا جہاں پہ دیرینہ کارکن عارف خان سندھیلہ سمیت کئی دوسرے افراد کو ٹکٹ نہ دینا تھاجس کا خمیازہ شکست کی صورت میں اٹھانا پڑااسی طرح پنجاب کے ضمنی انتخابات میں کئی حلقوں میں دلچسپ مقابلے 

ہوئے، سابق گورنر سجاد قریشی کے پوتے زین قریشی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب دوست محمد کھوسہ کے بھائی اور سابق گورنر ذوالفقار کھوسہ کے بیٹے سیف الدین کھوسہ، سابق سپیکر افضل ساہی کے صاحبزادے علی افضل ساہی قابل ذکر ہیں،پی ٹی آئی کے 18منحرف ارکان کو شکست اور صرف 2 کو کامیابی ملی ،بزدار کابینہ کے 6منحرف صوبائی وزراء میں سے 5میاں خالد محمود، اسلم بھروانہ، نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ اور زوار وڑائچ ن لیگ کے ٹکٹ کے باوجود شکست سے دوچار ہوئے اورلاہور میں سے صرف ایک سابق وزیر اسد کھوکھر کو کامیابی ملی، لودھراں  میں جہانگیر ترین گروپ کے دونوں منحرف ممبران زوار حسین وڑائچ اور نذیر بلوچ اپنے حلقہ انتخاب میں ہی شکست سے دوچار ہوئے ، مظفر گڑھ سے واحد خاتون امیدوار سیدہ زہرہ باسط بخاری اور ان کے دیور ہارون سلطان بخاری دونوں ہی پہلی بار اپنی آبائی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار معظم جتوئی سے شکست کھاگئے ،لودھراں سے واحد آزاد امیدوار سید رفیع الدین شاہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے امیدواروں کو شکست دیکر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، ضمنی انتخاب میں قریشی، کھوسہ، جتوئی، مگسی، بھروانہ، ساہی، اعوان اور وٹو خاندانوں کے امیدوارکامیاب ہوئے جبکہ نوانی، راجہ، چیمہ، جبوانہ، لنگڑیال، شیخ، وڑائچ، بخاری اور رندھاوا خاندانوں کے افراد کو شکست کا سامناکرنا پڑا، پہلی بار منتخب ہونے والوں میں علی افضل ساہی، احسن اسلم، خرم شہزاد، عثمان اکرم، عرفان اللہ نیازی، میجر ریٹائرڈ غلام سرور، شبیر گجر اور عامر اقبال شاہ شامل ہیں،نو منتخب ارکان میں سب سے زیادہ 4ارکان سیف الدین کھوسہ، قیصر عباس مگسی، معظم جتوئی، یاسر عرفات کا تعلق بلوچ، تین نو منتخب ارکان میں کرنل ریٹائرڈمحمد شبیر اعوان، احسن اسلم ملک اور نواز اعوان کا تعلق اعوان سے ہے، زین قریشی ، رفیع الدین اور عامر شاہ قریشی اور سید خاندان سے ہیں، ملک ظہیر عباس اور ملک اسد کھوکھر دونوں کا تعلق کھوکھر برادری سے ہے، نواز بھروانہ اور اعظم چیلا کا تعلق بھروانہ سیال برادری سے تعلق رکھتے ہیں، لاہور سے جیتنے والے عثمان اکرم کا تعلق ارائیں، فدا حسین کا وٹو اور عرفان نیازی کا تعلق پٹھان اور چودھری شبیر کا تعلق گجر برادری سے ہے، واحد کامیاب آزاد رکن رفیع الدین شاہ کی کامیابی میں ن لیگ لودھراں کے صدیق خان بلوچ کی سرعام اور عبدالرحمن کانجو کی درپردہ حمایت کا نمایاں دخل ہے شکست کے بعد ن لیگ نے سر جوڑ لئے عمران خان جیت کے باوجود دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں؟ منحرف اراکین کو ٹکٹ دینے کی یقین دہانی پر عملدرآمد کی قیمت مسلم لیگ ن کو ناقص انتخابی نتائج کی صورت میں ادا کرنا پڑی پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز شریف کو وزیراعلیٰ منتخب کرانے کیلئے منحرف اراکین ووٹ دینے کیلئے اس شرط پر راضی ہوئے تھے کہ آئندہ الیکشن میں انہیں مسلم لیگ ن ٹکٹ دے گی ڈی سیٹ اراکین کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات میںانہیںٹکٹ دیئے اور پارٹی کے حقیقی اور  نظریاتی لوگوں کو نظر انداز کیا متعدد حلقوں میں ناراض اراکین کا آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لینا یا خاموش ہو کر بیٹھ جانا مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی ہار کی وجہ بنا دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے بھی غیر موزوںحالات میں حکومت میں آنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ،مریم نوا زاور دیگر قیادت کی جانب سے انتخابی نتائج کو تسلیم تو کر لیا گیا ہے لیکن تحریک انصاف اور عمران خان کیخلاف الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کے جلد فیصلے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے، پارٹی کی کھوئی ہوئی حیثیت کو بحال کرنے کیلئے ن لیگ کی قیادت کو سنجیدگی سے سوچناپڑے گادوسری طرف نواز شریف اگروطن واپس نہ آئے تو آئندہ عام انتخابات میں رہی سہی عزت بھی مٹی میں مل جائے گی ۔

مصنف کے بارے میں