سیاسی عدم استحکام ملک کو لے ڈوبے گا!

سیاسی عدم استحکام ملک کو لے ڈوبے گا!

اگر ملک میں معاشی، معاشرتی ، سیاسی اور ادارہ جاتی سکون نہیں تو کوئی پاگل ہی ہے جو یہ سوچ سکتا ہے کہ ایسی صورتحال میں ملک ترقی کر ے گا۔ یا بیرون ملک سے سرمایہ کاری آئے گی۔ کبھی وفاق میں مسئلے تو کبھی صوبوں میں تو کبھی اداروں کی آپسی چپقلش۔ جب دنیا پاکستان کی اس مجموعی تصویر کو دیکھتی ہے تو یقین مانیں وہ ہمیں چاڈ، روانڈا، زمبابوے، شام، عراق یا افغانستان سے مختلف تصور نہیں کرتی۔ اور پھر وطن عزیز کے مسائل ہی نرالے اور خود ساختہ ہیں، جیسے شعبہ تعلیم کو حکومت نے نظرانداز کیا تو پرائیویٹ مافیا کے وارے نیارے ہوگئے، شعبہ صحت حکومت کی توجہ سے محروم ہوا تو وہاں بھی پرائیویٹ ہسپتال مافیا کی چاندی ہوگئی، ادویات بنانے کی نجی سطح پر اجازت دی گئی تو اس شعبہ میں بھی مافیا نے قبضہ جما لیا، چینی آٹا و اشیائے خورونوش پر چیک اینڈ بیلنس ختم ہوا تو وہاں بھی ناجائز منافع خوروں کی موجیں لگ گئیں وغیرہ۔ بالکل اسی طرح ہمارے جمہوری اداروں نے جیسے ہی کمزوری دکھائی تو فیصلہ کرنے والی قوتوں نے اس چیز کا فائدہ اْٹھایا اور سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پارلیمنٹ کو یاتو فارغ کردیا گیا یا اْسے محض ربڑ سٹیمپ بنا دیا۔ 

تبھی ہماری سیاسی جماعتوں کا حال دیکھ لیں، قوت فیصلہ سے محروم سیاسی جماعتوں سے عوام نے نفرت کرنا شروع کردی اور تبھی یہ سیاسی جماعتیں جن کا حجم سکڑتا سکڑتا قومی سے صوبائی جماعتوں تک چلا گیا۔ جیسے پی پی پی سندھ کی سیاسی جماعت بن گئی اور تحریک انصاف کے پی کے کی سیاسی جماعت بن گئی۔ لہٰذااگر پاکستان کے سیاسی ادارے بہترین مفاد اور ملکی مفاد کے لیے کام کر رہے ہوتے تو آج ملک کے حالات بلاشبہ بہتر ہوتے، جیسے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیں جہاں جمہوریت مضبوط ہے وہاں آپ بے مثال ترقی پائیں گے لیکن جہاں جمہوریت کمزور ہے جیسے پاکستان، سری لنکا، شام ، ایران وغیرہ یہ ممالک ہر گزرتے دن معاشی و سماجی مسائل میں ڈوب رہے ہیں۔ اور یہ بات میں ویسے ہی نہیں کہہ رہا۔آپ تاریخ اْٹھا کر دیکھ لیں کہ جب سے دنیا بنی ہے تب سے دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی جتنی حالیہ پانچ سو سال میں ہوئی ہے۔ پہلے ’’ظالم دور‘‘ ہوا کرتا تھا جب ملک کا ’’فاتح‘‘ جنگجو ہی اْس ملک کا سربراہ ہوا کرتا تھا، جسے یا تو ذاتی مفادات عزیز ہوتے تھے یا صرف اپنی شان و شوکت کا مسئلہ تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے جمہوری نظام پنپنے لگا۔ 

اگر ہم تاریخ کے اوراق کو گردانیں تو ہمیں 7صدیاں قبل سب سے پہلے برطانوی نظام ملتا ہے جہاں سب سے پہلے پارلیمانی نظام قائم ہوا۔پھر دیکھتے دیکھتے دیگر ممالک میں بھی یہ ریت پڑی کہ جہاں جہاں عوام کے منتخب نمائندگان نے قدم رکھے وہاں وہاں ترقی کی راہیں کھلتی گئیں! اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پارلیمانی نظام نے دنیا بھر میں قدم جمانا شروع کیے اور ملکوں کے عوام نے اپنے حق میں بہترین قوانین پاس کیے، اْن پر عملدرآمد کیا اور یوں یہ ممالک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بن گئے ، اس کی بڑی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جب بھی فیصلے پارلیمنٹ کرے گی تو وہ ایک تمیز کے دائرے میں رہ کر کرے گی، وہ ملکی مفادات کے لیے ہوں گے، وہاں Debateہوگی، فیصلوں کے حوالے سے ہر شخص ذمہ داری لے گا۔ ہر شخص کوکسی نہ کسی نکتے پر اعتراض کا حق ہوگا، ہر شخص دوسرے سے بڑھ کر تیاری کر کے ایوان میں داخل ہوگا۔ تو بہترین فیصلے اور قانون سازی عمل میں آئے گی۔ لیکن اس کے برعکس اگر یہی فیصلے کہیں اور ہوں گے، تو یا تو یہ کسی ادارے کے حق میں ہوں گے، شخصیت کے حق میں ہوں گے، یا ذاتی مفادات کے لیے ہوں گے۔ تو ملک آگے جانے کے بجائے پیچھے چلا جائے گا جیسے وطن عزیز !۔

 جب کہ آپ بھارت پر جتنا مرضی اعتراض کرلیں وہاں کے سیاسی حالات بھی پاکستان سے مختلف نہیں ہیں ، وہاں بھی سیاسی جماعتیں سکڑ رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر کانگریس پر ہوا ہے جس کی سیٹیں ہر گزرتے دن سکڑ رہی ہے۔ لیکن وہاں کی پارلیمنٹ یا عدلیہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جو فیصلے پارلیمنٹ یا عدالتوں میں ہو جاتے ہیں، پھر من و عن اْن پر عمل بھی ہوتا ہے۔ وہاں آج تک پارلیمنٹ کے فیصلوں کے حوالے سے کبھی کوئی سڑک پر نہیں آیا اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے نہیں پارلیمنٹ کے فیصلوں میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی ہے۔ تبھی بھارت آج 600ارب ڈالر سالانہ کی انڈسٹری بن چکا ہے جبکہ ہم محض 25ارب ڈالر کی انڈسٹری بن کر رہ گئے ہیں۔ 

اس کی وجہ کچھ بھی ہو لیکن یہ بات تو طے ہے کہ ہمارے فیصلے ہماری پارلیمنٹ میں ہونے چاہیے، وہیں ہر ایشو کو زیر بحث لایا جائے۔ لیکن ایسا کرے کون؟ جبکہ حالات یہ ہیں کہ ہمارے ہاں جتنے بھی فیصلے پارلیمنٹ سے باہر ہوتے ہیں، وہ غیر معروف اور مختصر المدتی ہوتے ہیں۔ پھر یہاں آج تک جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں، وہ سب آمریت کے دور میں ہوئی ہیں، الغرض ہمارے ہاں بڑے بڑے فیصلے بھی عموماً سیاستدان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں جیسے اگر 1970ء کے الیکشن کے بعد اگر فوری طور پر اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جاتا تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی۔ اْس وقت عوامی لیگ کی سیٹیں سب سے زیادہ تھیں اور اسے ہی وزارت عظمیٰ ملنا تھی، لیکن اْس وقت بھی پسند نہ پسند کا چکر چلا اور بات ملک کو دو ٹکڑے کرنے پر ختم ہوئی۔ حالانکہ اگر شیخ مجیب کو دونوں مشرقی و مغربی پاکستان کی وزارت عظمیٰ مل جاتی تو کیا وہ پاگل تھا کہ اس ملک کو توڑنے کا سبب بنتا۔ پھر مسئلہ کشمیر بھی آج تک اسی لیے حل نہ ہو سکا کہ اْس کا مسئلہ پارلیمنٹ میں نہ لایا جا سکا۔ نوازشریف کے دور میں واجپائی صاحب لاہور آئے، تو بس سروس شروع ہوئی، رابطے بحال ہونا شروع ہوئے لیکن ہمارے ہاں کارگل کا مسئلہ شروع کر دیا گیا۔ 

لہٰذااس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے ملک کے پیچھے رہ جانے کی سب سے بڑی وجہ پارلیمنٹ کا کمزور ہونا ہے۔ اور اسی کمزوری کی وجہ سے ملک تیزی سے ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے لہٰذاہمیں اپنی معیشت کو وینٹی لیٹر سے بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ کام روائتی معاشی پالیسیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ہمیں معاشی استحکام کے لیے کڑوی گولیاں یا سخت گیر فیصلے کرنا ہوں گے۔ اور یہی فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا ہوں گے، اگر عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے کا تہیہ حکومت نے کر لیا ہے تب بھی سب سے پہلے اْسے پارلیمنٹ میں جانا چاہیے۔ کیوں کہ معاشی استحکام کے لیے ہمیں پہلے سیاسی استحکام کی کنجی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ حکومتوں میں تسلسل، ایک دوسرے کا سیاسی مینڈیٹ کو قبول کرنا ، محاذ آرائی او رالزام تراشیوں کی سیاست سے گریز،حزب اختلاف کی جانب سے حکومتی معاشی پالیسیوں میں جذباتی سطح کی پالیسی سے گریز، معیشت پر سیاسی سودے بازی کرنا یا حزب اختلاف کا حکومت کا بلاوجہ ساتھ نہ دینے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں۔ ہمیں سیاسی محاذ پر ایک ایسے سیاسی میثاق جمہوریت یا سیاست کی بھی ضرورت ہے۔جہاں تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے لیے قبولیت کا ماحول پیدا کریں او رایک ایسے معاہدے کی طرف پیش رفت کی جائے جس میں حکومت او رحزب اختلاف سمیت سب ہی فریقین پر اتفاق بھی کریں اور دستخط بھی کریں کہ وہ معاشی معاملات پر کوئی ایسی مہم نہیں چلائیں گے جس میں ریاست کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ ورنہ جب ہمارے فیصلے کہیں اور ہوں گے تو یقینا ہم خسارے میں ہوں گے اور ملک کا پھر اللہ ہی حافظ ہوگا!

مصنف کے بارے میں