ایران میں سب سے بڑا حکومت مخالف احتجاج، ہزاروں افراد کی شرکت

10:09 AM, 26 Jun, 2018

تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں ہزاروں افراد ایک بار پھر بڑھتی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی پر حکومت مخالف احتجاج کر رہے ہیں۔ تہران کے مرکزی بازار میں جاری ہڑتال کے بعد ان مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ایک غیرمعمولی بات ہے۔

 

اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ایران شام اور دیگر ممالک میں اپنی مداخلت ختم کرے اور اپنے ملک کے اندر جاری معاشی بحران پر توجہ دے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مظاہروں پر قابو پانے کے بعد انھیں معیشت کے حوالے سے شکایات تک محدود کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت کو خواتین کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ملک قرار

دوسری جانب سینٹرل بینک آف ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی ریال کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے نئے اقدامات کرے گا۔ تہران کے گرینڈ بازار میں ہونے والے ان مظاہروں میں تاجروں نے بھی حصہ لیا۔ دوکانیں بند کر دی گئیں اور ہزاروں افراد دارالحکومت کی گلیوں میں نکل آئے۔

 

جیسے ہی مظاہرین نے پارلیمان کی جانب رخ کیا تو انھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ خیال رہے کہ یہ 2012 کے بعد ایران میں ہونے والا سب سے بڑا احتجاج ہے۔

2012 میں ہونے والے احتجاج کے بعد حکومت تبدیل ہو گئی تھی اور جوہری معاہدے پر عالمی طاقتوں کے ساتھ بات کرنے پر رضامند ہوا تھا۔ بعد میں 2016 میں معاہدہ طے پانے کی صورت میں ایران پر سے معاشی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں لیکن رواں سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور نواز شریف کے دونوں بیٹوں کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ

امریکی صدر کی جانب جوہری معاہدے سے نکلنے اور ایران پر اگست سے نئی پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں مزید کمی کا خطرہ ہے۔

 

اس وقت ایک امریکی ڈالر 90 ہزار ایرانی ریال کے برابر ہے جبکہ امریکی صدر کے اعلان سے قبل ایک ڈالر 65000 ریال جبکہ 2017 کے آخر میں ایک امریکی ڈالر 42890 ایرانی ریال کے برابر تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

مزیدخبریں