فیس بک پر جنسی زیادتی کی لائیو فوٹیج چلانے گرفتار نہ ہو سکے

نیویارک: شکاگو پولیس 15سالہ لڑکی سے زیادتی کرنے اور اسے فیس بک پر لائیو کرنے والے مبینہ ملزم کی تلاش میں ہے ۔تفصیلات کے مطابق
پولیس حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ 40 افراد نے اس ویڈیو کو لائیو دیکھا مگر کسی نے بھی پولیس کو خبر نہ کی۔پولیس کو اس واقعے کی خبر تب ہوئی جب لڑکی کی ماں ویڈیو کے سکرین شاٹس لے کر شکاگو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سپریٹنڈنٹ ایڈی جانسن کے پاس پہنچی۔لڑکی کی ماں نے بتایا کہ اس کی بیٹی اتوار سے غائب ہے اور ایک ویڈیو میں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتے ہوئے دکھائی گئی ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے لڑکی کو ڈھونڈ کر اس کی ماں سے ملا دیا ہے۔پولیس نے فیس   بک سے  بھی زیادتی کی ویڈیو ہٹانے کو کہا تھا، جسے فوراً ہی ہٹا دیاگیا۔ زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کا کہنا ہےکہ وہ صرف ایک حملہ آور کو جانتی ہے۔

پولیس سپریٹنڈنٹ خود بھی اس ویڈیو کے مواد اور 40 افراد کے لائیو ویڈیو کو دیکھنے اور پولیس کو فون نہ کرنے پر پریشان ہے۔رپورٹ کے مطابق لڑکی کے ایک انکل نے لڑکی کی ماں کو ویڈیو کے بارے میں بتایا تھا، جس نے پولیس سے رابطہ کیا۔

شکاگو پولیس ڈیپارٹمنٹ کو حالیہ مہینوں میں دوسری بار فیس بک پر لائیوسٹریم ہونے والے جرم کی شکایت ملی ہے۔ جنوری میں چار ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے ذہنی معذور شخص پر تشدد کرتے ہوئے اس کی ویڈیو لائیو سٹریم کی تھی۔