بھارتی بحریہ کی خود فریبی 

بھارتی بحریہ کی خود فریبی 
فائل فوٹو

کراچی :( ڈاکٹر مسعود الرحمٰن خٹک سے) بھارت اپنی دیگر افواج کی ناکامی کی طرح اپنی بحریہ کی نا اہلی کو بھی آشکار کر رہا ہے اور پاکستان کے میری ٹائم اثاثوں کے خلاف زیر آب اور سطح آب پرجارہانہ عزائم کے ذریعے بحیرہ عرب کے ا من و استحکام کو غارت کرنے کے درپے رہتا ہے۔ بھارت ماضی میں ایسی ناکام کوشش کرچکا ہے جس سے بحر ہند میں اس کی بحری حکمت عملی ناکام ہوئی ۔


اس مضمون کا مدعا'' خود فریبی کی سوچ ''کو عیاں کرنا ہے جس پر بھارتی بحریہ پاکستان کے خلاف عمل پیرا ہے اورجس کا نتیجہ ہمیشہ نا خوشگوار واقعات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ عددی اعتبار سے برتر اور پر شکوہ آپریشنل پلانز پر پھلتی پھولتی بھارتی بحریہ کے متعلق سٹیفن پی کوہن (Stephen P Cohen) اور سنیل ڈاسگپتا (Sunil Dasgupta) کا کہنا ہے کہ بھارتی بحریہ کو اسلحہ سے لیس کیا جا رہا ہے۔بھارتی بحریہ اس حقیقت کو ملک کی سرحدوں سے باہر بھی ظاہر کر چکی ہے ۔ جب بھارتی بحریہ نے پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کی پرکھ کی، درحقیقت اس کی خود فریبی ہی اس کے بغل گیر ہوئی اوربھارتی بحریہ کے جنگی جہازوں کی آپریشنل اور تکنیکی ناکامیاں سامنے آئیں۔

04 مارچ2019 کو پاک بحریہ کی جانب سے بھارتی بحریہ کی جدید ترین سکارپین کلاس آبدوز کا سراغ لگانا اور اس کو بھاگنے پر مجبور کرنا پاک بھارت کے موجودہ سیاسی و عسکری تناﺅ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ تین سال قبل اُڑی واقعہ کے بعد بھارتی بحریہ نے پاکستان کے خلاف زیر آب جارحیت کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہوگئی۔ بھارتی بحریہ کی اس حرکت نے بحیرہ عرب کے امن کو بری طرح متاثر کیا۔

14 نومبر 2016 کو پاکستان نیوی کے ائیر کرافٹ پی تھری سی نے اپنی معمول کی گشت کے دوران بھارتی بحریہ کی209 کلاس آبدوز کی موجودگی کا پاکستانی پانیوں کے قریب سراغ لگایا اور اسے وہاں سے بھگا دیا۔ پاک بحریہ نے بھارتی آبدوزکو مجبور کیا کہ وہ سمندر کی گہرائیوں سے سطح سمندر پر آئے اور اپنی شناخت ظاہر کرے۔ بھارتی بحریہ کی آبدوز کی پاکستانی پانیوں میں اس طرز کی مکارانہ تعیناتی کسی ناپاک عزائم کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ یہ عزائم جاسوسی اور اہم خفیہ راز کا حصول بھی ہوسکتا ہے تاکہ سی پیک اور گوادر بندرگاہ کے منصوبے کو سبوتاژ کیا جائے۔ حالیہ دنوں بھارتی آبدوز کی پاکستانی پانیوں کے قریب موجودگی بھی انہی عزائم کا تسلسل ہو سکتی ہے تاکہ معلومات حاصل کی جائیں اور پاکستانی پانیوں میں موجود پاک بحریہ کے کسی بھی جہاز پر حملہ کیا جا سکے۔ پاکستانی پانیوں کے قریب بھارتی آبدوز کی موجودگی بحیرہ عرب کے امن واستحکام کو غارت کر سکتی تھی۔

پلوامہ واقعہ کے بعد، بھارتی بحریہ کا ایک جہاز مسقط کی بندرگاہ میں داخل ہوا اور دو ہفتوں تک اس خوف سے بندرگاہ نہ چھوڑ سکا کہ اس کا سامنا پاک بحریہ کے جہازوں سے نہ ہو جائے۔پکڑے جانے کا خوف اس قدر تھا کہ بھارتی بحریہ نے اپنے چھوٹے جہاز کو مسقط سے واپس لانے کےلئے جدید جہازوں پر مشتمل طیارہ بردار جہاز بھیجا۔یہ واقعات بھارتی بحریہ کے سربراہ کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں جو انہوں نے سال 2018کے دوران ری پبلک ٹی وی کو انٹرویوکے دوران کئے اور پھر نیوی ڈے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہیں دوبارہ دہرایا ۔ انٹرویو اور خطاب کے دوران، بھارتی نیوی کے سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا نے کہا کہ بھارتی بحریہ کے نیول چیف ہونے کے ناطے پاک بحریہ ان کےلئے ایک خطرہ نہیں ہے بلکہ وہ اس مفروضے پر قائم رہے کہ بھارتی بحریہ پاک بحریہ سے آپریشنل لحاظ سے کہیں بہتر ہے۔ 

بھارتی بحریہ کی مسلسل آپریشنل اور ٹیکنیکل ناکامیوں سے مایوس ایڈمرل سنیل لامبا کا رویہ ایک سینئیر آفیسر کے طور پر بالکل بھی موزوں نہیں تھا۔04 مارچ 2019 کو انڈو پیسفک ریجنل ڈائیلاگ کے دوران ایڈمرل سنیل لامبا نے کہا''پلوامہ حملہ کا ارتکاب دہشت گردوں نے کیا اور ایک ایسی مملکت جو بھارت کو عدم استحکام سے دو چار کرنا چاہتی ہے نے ان کی بھر پو رمدد کی''۔چونکہ بھارت اپنے پلوامہ حملے کے پروپیگنڈے کو ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا، اس لئے پاکستان کا پلوامہ حملے میں ملوث ہونے کے بھارتی بحریہ کے سربراہ کے بیان کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے تخفیف فطرت کو اختیار کیا،جس کیلئے بھارتی عہدیداران کی اکثریت جانی جاتی ہے۔ایڈمرل لامبا نے اپنے غیر مصدقہ دعوﺅں کے بارے میں واضح تفصیلات دیئے بغیر مشاہدہ کرتے ہوئے کہا،'' سمندر کے ذریعے دہشت گردوں کو حملے کے لئے تربیت دینے کی رپورٹ ہے''۔ 

1990میں شروع ہونے والے اے ٹی وی پراجیکٹ (ATV Project) کی تکمیل میں کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ناکامی کے بعد بھارتی بحریہ کی آبدوز آریہنات (Arihant) کو سال 2016میں بھارتی بحریہ کا حصہ بنایا گیا۔بھارت کی یہ آبدوز نیوکلئیرپاور کی حامل ہے جو بلاسٹک میزائل سے لیس ہے۔ بھارتی بحریہ کی آبدوز آریہانت Arihant کو 2017 میں کڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور تقریباً ایک سال کےلئے بھارتی آبدوز آپریشنل نہ رہی۔ 2013 میں ایک آگ لگنے کے حادثے کے بعد بھارتی بحریہ کی کلو کلاس آبدوز سندھو رکشک (Sindhu Rashak) ممبئی کے نیول ڈاکیارڈمیں ڈوب گئی۔2014میں، بھارتی بحریہ کی ایک اور کلو کلاس آبدوز سندھورتنا (Sindhuratna) پر آگ لگنے کا حادثہ پیش آیا جس میں بھارتی بحریہ کے دو سیلرز دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔

بھارتی بحریہ میں موجود ناقص آپریشنل اور حفاظتی اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی بحریہ کو خوش فہمی لاحق ہے کہ وہ پاک بحریہ جسے وہ ایک کمزور فوج سمجھتی ہے کو شکست دے سکتی ہے جو کہ اس کا ایک وہم اور خواب و خیال ہے۔ جب آرہانت) Arihant (نے بھارتی بحریہ کے دعوے کے مطابق بحر ہند میں ایک مہینے پر محیط گشت مکمل کر لیا تو اس پر بھارتی سٹریٹیجک کمیونٹی نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے دشمنوں کو خبردار کیا کہ بھارت کے خلاف کسی بھی جارحیت سے باز رہیں۔ نیو ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹران چیف انکت شریواستو نے اخبار میں ذکر کیا کہ آرہانت Arihant آبدوز نے پاکستان میں ہلچل مچا دی۔ درحقیقت،آرہانت آبدوز صرف جدید ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ہے نہ کہ بحری نیوکلئیر جنگ کےلئے ایک قابل اعتبار پلیٹ فارم۔ شتریوواستو کے استعمال کیے گئے جنگی کلمات بھارتی ادیبوں اور تجزیہ نگاروں کی پاکستان کے خلاف جنون کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں جو اپنے آپ کو پاکستان کے خلاف روایتی تنقید سے آزاد نہیں کر سکتے۔

بھارتی بحریہ کے موجودہ حجم اور مہارت سے منسلک ناکامیوں کی وجہ سے بھارتی بحری قیادت اور بحری مفکرین کو شدید مایوسی کا سامنا ہے جو اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہاہے کہ ایسی نیوی بحری جنگ کرنے کے بنیادی تقاضے پر پوری نہیں اترتی۔

پاک بحریہ کی جانب سے بھارتی آبدوزوں کابار بار سراغ لگانا تجزیہ نگاروں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بھارتی بحریہ کی اہلیت، مستقل مزاجی اور آپریشنل معیار سے متعلق جائز سوالات پوچھیں۔بھارتی بحریہ ایک طویل مدت سے نظریاتی اور سٹریٹیجک مسائل کو نظر انداکر کے اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ بھارتی بحریہ پاکستان نیوی پر موجودہ آپریشنل حالات میں تخیلاتی بالادستی قائم کئے ہوئے ہے۔

جب بھارتی بحریہ کا جہاز پاکستان نیوی کے جہازوں کی موجودگی کی وجہ سے مسقط کی بندرگاہ چھوڑنے سے کترا رہا تھا تو بھارتی بحریہ کو پاکستان کے خلاف جنون اور خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنی سوچ کا پہلو بدلنا چاہئے تھا۔