بجٹ مالی سال 2017-18ءکیلئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات

بجٹ مالی سال 2017-18ءکیلئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات

اسلام آباد :  وفاقی حکومت نے جمعہ کو آئندہ مالی سال 2017-18ءکے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا اجراءکر دیا جس کا مجموعی حجم 2113 ارب روپے ہے جس میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کا حجم 1001 ارب روپے اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ 1112 ارب روپے ہے۔ غیر ملکی امداد کا حصہ162 ارب روپے ہے۔ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے 2017-18ءکے سرکاری شعبے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری19 مئی کو دی تھی۔


2017-18ءکیلئے سرکاری شعبے میں ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات یہ ہیں:۔

٭ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے ترقیاتی حجم نے1000ارب روپے کے ہندسے کو عبور کیا ہے۔

٭ ہوا بازی ڈویژن کےلئے4 ارب 34 کروڑ 87 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ کابینہ ڈویژن کیلئے 15 کروڑ97 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (کیڈ) کےلئے 5ارب 18کروڑ 84لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ پانی و بجلی ڈویژن (شعبہ آب) کیلئے 36 ارب 75 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کیلئے 81 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ کامرس ڈویژن کے لئے ایک ارب 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ مواصلات ڈویژن (علاوہ این ایچ اے) کیلئے 13ارب 66کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ دفاع ڈویژن کیلئے 53کروڑ 50لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ دفاعی پیداوار ڈویژن کے لئے 4ارب 46کروڑ80لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ وفاقی تعلیم و پیشہ وارا نہ تربیت ڈویژن کےلئے2ارب 96کروڑ19لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے 27کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ فنانس ڈویژن کیلئے 18ارب 93کروڑ63لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ خارجہ امور ڈویژن کیلئے 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 35 ارب 66کروڑ28 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ ہاﺅسنگ و تعمیرات ڈویژن کیلئے 10ارب 38کروڑ62لاکھ روپے رکھے کئے گئے ہیں۔

٭ انسانی حقوق ڈویژن کے لئے 30کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ صنعت و پیداوار ڈویژن کے لئے 2ارب 73کروڑ72لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ اطلاعات و نشریات ڈویژن کیلئے 81کروڑ17 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ڈویژن کیلئے ایک ارب 53کروڑ80لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کیلئے 3ارب 4کروڑ41لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ داخلہ ڈویژن کیلئے 15ارب66کروڑ69لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کیلئے 43ارب 64کروڑ43لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ قانون و انصاف ڈویژن کیلئے ایک ارب 20کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ انسداد منشیات ڈویژن کیلئے 22کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ قومی غذائی تحفظ اور تحقیق ڈویژن کیلئے ایک ارب 61کروڑ 42لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن ڈویژن کےلئے 48ارب70کروڑ 14لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ قومی سلامتی ڈویژن کےلئے 10کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے لئے 27کروڑ27لاکھ روپے مختص کئے گئے۔

٭ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کیلئے 15ارب8کروڑ50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ پاکستان جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے32کروڑ 15لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کیلئے55کروڑ42لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور اصلاحات ڈویژن کے لئے 16ارب 79کروڑ85لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

٭ بندرگاہیں و جہاز رانی ڈویژن کیلئے 12ارب 77کروڑ 56لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ ریلوے ڈویژن کیلئے 42ارب 90کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ ریونیو ڈویژن کیلئے 79کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ سائنس و ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کیلئے2 ارب42کروڑ79لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ سپارکو کے لئے 3ارب 50کروڑ روپے مختص کئے گئے۔

٭ ریاستیں و سرحدی علاقہ جات ڈویژن کیلئے 26ارب 90کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ شماریات ڈویژن کیلئے20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کیلئے 21کروڑ75لاکھ مختص کئے گئے ہیں۔

٭ کارپوریشنز کی مد میں واپڈا (پاور) کیلئے60ارب 90کروڑ94لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے 3کھرب19ارب 72کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ وزیراعظم کے گلوبل ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کےلئے 30ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ سپیشل فیڈرل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 40ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ توانائی سب کے حوالے سے 12ارب 50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ سب کےلئے پینے کے صاف پانی کےلئے 12ارب 50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں

٭ ایرا کیلئے7ارب 50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ سی پیک منصوبہ جات کی تکمیل کےلئے خصوصی فراہمی کی مد میں 5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد ( آئی ڈی پیز) کی سہولت و بحالی کےلئے 45ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ عارضی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی سکیورٹی میں اضافہ کےلئے بھی 45ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ وزیراعظم کے یوتھ اقدام کے لئے20ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے لئے 25ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

٭ صوبوں کے لئے11کھرب 12ارب روپے رکھے گئے ہیں۔