اسلام آباد کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کابل ہمارا دشمن بن گیا ہے۔سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کابل ہمارا دشمن بن گیا ہے۔سینیٹر سراج الحق

پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کابل ہمارا دشمن بن گیا ہے۔ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو معاشی ، دفاعی اورنظریاتی لحاظ سے کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بھارتی لابی کی مضبوطی پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسیوںکا نتیجہ ہے۔ افغان سمیت دیگر پڑوسی مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے خارجہ پالیسی کی ازسرنو تشکیل ضروری ہے۔


 انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کی وجہ سے وہاں کے حالات براہ راست پاکستان اور بالخصوص فاٹا پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے۔ فاٹا کے عوام ستر سال سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ قبائلی ایف سی آر کی صورت میں بدترین غلامی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پورے فاٹا کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔ فاٹا کے اندر کوئی یونیورسٹی ، میڈیکل کالج یا انجنیئرنگ کالج موجود نہیں۔ درہ آدم خیل میں کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینا قبائل کے ساتھ مذاق ہے۔ ایک کروڑ آبادی پر مشتمل فاٹا تعلیم ، روزگار اور صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ حکومت فاٹا میں انفراسٹکچر کی تعمیر اور بحالی ، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے قیام ، ہسپتالوں کی تعمیر اور اپگریڈیشن اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لئے بڑے مالیاتی پیکج کا اعلان کرے۔فاٹا کو این ایف سی میں حصہ دے کر اس کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے جبکہ سی پیک میں بھی قبائلیوں کو حصہ دیا جائے۔ فاٹا کو اب خیبر پختونخوا میں ضم ہوجانا چاہئے، یہ قبائل کا مطالبہ بھی ہے اور وقت اورحالات کا تقاضا بھی۔ جو لوگ فاٹا کے انضمام اور اصلاحات کے خلاف ہیں وہ فاٹا کے عوام کے ساتھ مخلص نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور میں اپنی صدارت میں منعقد فاٹا کی موجودہ صورتحال پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، خارجہ امور کے سربراہ عبدالغفار عزیز، امیر جماعت کے افغان امور کے مشیر شبیر احمد خان، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان، سیکرٹری جنرل عبدالواسع، جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی، جماعت اسلامی فاٹا کے امیر سردار خان،آصف لقمان قاضی اور دیگر ذمہ داران شریک تھے۔ اجلاس میں فاٹا کی صورتحال اور اصلاحات میں تاخیر پر گفتگو ہوئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ فاٹا کے عوام مسلسل ستر سال سے محرومیوں کا شکار ہیں، قبائلی عوام بنیادی بشری حقوق، آئینی ، معاشی اور معاشرتی حقوق سے محروم ہیں، لوڈ شیڈنگ قبائلیوں کے لئے وبال جان بن چکی ہے۔ پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی عوام مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں،حکومت فاٹا کی تعمیر و ترقی کے لئے وسائل خرچ کرے۔

انہوں نے کہا کہ این یف سی اور سی پیک سے محرومی سے فاٹا میں مختلف بحران جنم لیں گے۔ ملک کے دیگر صوبوں کو تو این ایف سی میں حصہ مل رہا ہے لیکن فاٹا کو قیام پاکستان کے بعد سے کوئی حصہ نہیں ملا۔ حکومت این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے لئے بڑا حصہ مقرر کرے ۔ سی پیک میں فاٹا کو محروم رکھنا زیادتی ہوگی۔ حکومت اقتصادی راہداری میں فاٹا کو اپنا حصہ دے تاکہ یہاں بھی تعمیر و ترقی کے دروازے کھل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی فاٹا کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہم نے فاٹا کے عوام کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، آئندہ بھی ان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں