سنگاپور: گزشتہ دنوں چین اور امریکا میں جاری تجارتی تنازع کے اختتام کے بعد چین نے امریکا سے بھاری مقدار میں تیل اور سویابین درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

 

تجارتی ذرائع کے مطابق بیجنگ نے دنیا کی دو بڑی معیشتوں میں جاری تناؤ ختم کرنے کے لیے سرکاری ریفائنریوں اور اناج خریدنے والوں کو امریکا سے مزید خریداری کی ہدایت دے دی۔

 اس سلسلے میں چین نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہمعسر تجارتی شراکت دار سے درآمدات میں اضافہ کرے گا، تاکہ تجارتی کشیدگی کا خاتمہ ہوسکے جس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے توانائی اور دیگر استعمال کی اشیاء فروخت کے لیے وافر مقدار میں موجود ہیں۔

دونوں ممالک تجارتی جنگ سے دستبردار ہونے کے بعد امریکا چینی ٹیلی کام کمپنی زیڈ ٹی ای کو مصنوعات فراہم کرنے والی امریکی کمپنی سے پابندی اٹھانے کے معاہدے کے قریب ہے، جبکہ چین نے کارکی درآمدات پر ٹیرف کی کمی کا بھی اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ چین تیل اور سویابین درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، اور امریکا اس کی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے، ان درآمدات سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کے ٹریڈ سرپلس میں کمی کا مطالبہ بھی پورا ہوسکے گا۔

اس ضمن میں 2 علیحدہ علیحدہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چین کی جانب سے سرپلس میں کمی کی کوششوں کے تحت ایشیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ’چائنا سائنوپیک‘ رواں سال جون میں امریکا سے خام تیل کی درآمدات میں واضح اضافہ کرے گی۔

خیال رہے کہ امریکا میں شیل آئل کی پیداوار میں غیر معمولی اضافے اور باقی دنیا میں اس قسم کے تیل کی نسبت کم قیمت ہونے کے سبب امریکا کے خام تیل کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔