سروسز اسپتال میں دوران آپریشن خاتون سے مبینہ زیادتی، وزیر صحت کا نوٹس

سروسز اسپتال میں دوران آپریشن خاتون سے مبینہ زیادتی، وزیر صحت کا نوٹس
ابتدائی طور پر خاتون سے زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے، پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: پولیس نے سروسز اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ایک خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا۔لاہور کے تھانہ شادمان میں درج کرائی گئی ایف آئی آرکے مطابق سبزہ زار کی رہائشی 35 سالہ خاتون بواسیر کے آپریشن کے لیے سروسز اسپتال میں داخل ہوئیں جہاں آپریشن کے بعد شام کو انہیں گھر منتقل کیا گیا۔


ایف آئی آر کے مطابق رات گئے تکلیف بڑھنے پر انہیں شیخ زید اسپتال لے جایا گیا جہاں انکشاف ہوا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔مدعیہ کے مطابق آپریشن تھیٹر میں نامعلوم ڈاکٹر یا عملے نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جس پر پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔

واقعے کے بعد وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے نوٹس لیتے ہوئے پرنسپل سروسز اسپتال ڈاکٹر محمود ایاز کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی جس میں پروفیسر ڈاکٹر روبینہ سہیل اور پروفیسر آف فرانزک عارف رشید شامل ہیں۔

انکوائری کمیٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق ابتدائی طور پر خاتون سے زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔انہوں نے واقعے کو خاتون کی غلط فہمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری رپورٹ آج مکمل کر لی جائے گی۔

سروسز اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق خاتون کے طبی معائنے کے لیے چار لیڈی ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جسے خاتون سے جنسی زیادتی کے شواہد نہیں ملے تاہم خاتون کی درخواست پر نمونے حاصل کر کے فرانزک کے لیے پولیس کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دوران آپریشن خاتون سے زیادتی کا الزام ثابت ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔