پاکستانی ٹیم میں کورونا وائرس کا ذمہ دار کون ؟

 پاکستانی ٹیم میں کورونا وائرس کا ذمہ دار کون ؟
سکرین شاٹ

لاہور،ٰسپورٹس جرنلسٹ اور تجزیہ کارمرزا اقبال بیگ نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کا دورہ مکمل ہوگا ۔ نیو نیوز کے پروگرام عائشہ احتشام کے ساتھ  میں گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کورونا فری ممالک میں شمار ہوتا ہے ، ہمارے کھلاڑیوں نے وہاں پر ایس او پیز کی شدید خلاف ورزی کی ہے ۔ اس کی ذمہ داری  ٹیم ممبرز اور ٹیم مینجرز دونوں پر عائد ہوتی ہے ۔ ٹیم کے ساتھ ایسا مینجر ہونا چاہئے جو کھلاڑیوں کو کنٹرول کرسکے ۔ کھلاڑی بچے  نہیں ہیں ۔ ٹیم کی روانگی سے قبل ساری ٹیم کو لاہور کے ہوٹل میں رکھا گیا چونتیس کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ کلیئر آئے لیکن نیوزی لینڈ میں چھ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آگئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ساری صورتحال میں ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدار بھاری تنخواہیں لیتے ہیں اگر وہ چاہتے تو قومی ٹیم کو چارٹر طیارے پر بھیجا جاسکتا تھا ۔ اسوقت بھارتی میڈیا پاکستانی کرکٹرز کا مذاق اڑا رہا ہے ا س سب کا کون ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دورہ ہوگا لیکن یہ اس صورت میں ہوگا کہ پاکستانی کھلاڑی کوئی اور حماقت نہ کریں  ۔پاکستانی حکام نے مشکل حالات میں سوچ سمجھ کر ہی ٹیم بھیجی ہوگی ۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ چپ ہے ۔ 

پروگرام میں موجو د سینئر سپورٹس جرنلسٹ یحیٰی حسینی نے کہا کہ اس صورتحال کی ذمہ داری کھلاڑیوں پر نہیں آتی ۔ نیوزی لینڈ کورونا فری ملک ہے یہ ٹھیک ہے  لیکن پاکستانی ٹیم کے لئے چارٹر طیارے  کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا ۔ اٹھارہ گھنٹے کی فلائٹ تھی پاکستانی ٹیم دبئی میں عام شہریوں کے ساتھ رہے ۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اتنا امیر نہیں ہے اس نے پاکستانی ٹیم کے لئے چارٹر طیارہ ارینج نہیں کیا ۔ اگر انہوں نے یہ انتظام نہیں کیا تو پھر ان کو سخت احتجاج بھی نہیں کرنا چاہئے تھا ۔

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی طرف سے  بہت سخت ای میل آیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس ای میل پر احتجاج کرنا چاہئے ۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں کی ان کو تو ابھی تک ٹی اے ڈی اے ہی نہیں دیا ۔