ماسکو:امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک دنیا کا جدید ترین میزائل دفاعی نظام بنا کر ابھی سکھ کی سانس لے ہی رہے تھے کہ روس نے ’شیطان دوئم‘ نامی ایٹمی میزائل تیار کر کے ان کا امن و سکون غارت کر دیا ہے کیونکہ دنیاکی کوئی طاقت اس شیطانی ہتھیار کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

ڈیلی سٹار کے مطابق روس کا یہ خوفناک ہتھیار تیاری کے تقریباً تمام مراحل مکمل کرچکا ہے اور سال رواں کے اختتام سے قبل اس کا حتمی تجربہ بھی کرلیا جائے گا۔ نیٹو کے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار اتنا تباہ کن ہے کہ ایک ہی حملے میں فرانس جیسے ملک کو پورے کا پورا تباہ کرسکتا ہے۔دراصل یہ ایٹمی ہتھیاروں کا ایک مجموعہ ہے جو چار ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے ہدف کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

یہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی طاقتور ترین شکل ہے جو 15 ایٹمی ہتھیاروں کو بیک وقت لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا مجموعی وزن 100 ٹن سے بھی زائد ہے۔روسی دفاعی حکام کے مطابق اس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا نام RS-28 سامیٹ ہے، لیکن نیٹو ممالک میں اسے ’شیطان دوئم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ روس کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس میزائل کا حتمی تجربہ رواں سال ختم ہونے سے پہلے ہی کرلیا جائے گا۔

جس کے بعد اسے روسی فوج کے حوالے کردیا جائے گا۔ یہ اس سے پہلے استعمال ہونے والے روس کے طاقتور ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل SS-18Sکی جگہ لے گا، جسے مغربی حلقوں میں ’شیطان‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کی نئی شکل کو ’شیطان دوئم‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نیا میزائل سات ہزار میل تک کسی بھی قسم کے ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے اور اس کی سب سے خوفناک بات یہی ہے کہ جدید ترین میزائل دفاعی نظام بھی اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔