ہنگری کی پولیس نے ایک پاکستانی تارک وطن کو حراست میں  لیا ہے جس پر پاکستان میں 70 افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

ہنگری   پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگری شہر بڈاپسٹ کے قریب پولیس نے غیر قانونی تارکین وطن کے ایک گروپ کو سربیا کی سرحد کے قریب روکا جس میں وہ 35 سالہ شخص بھی شامل تھا جس پر قتل کا الزام ہے۔

حکومت پاکستان نے اس شخص کو 70 افراد کے قتل کے الزام میں ملک کا سب سے مطلوب مجرم قرار دیا تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی وارنٹ جاری کیے ہوئے تھے اور انٹرپول اس کی تلاش میں بھی تھی۔

مزیداطلاعات کے مطابق مبینہ قاتل 'پاکستانی بچر' یعنی پاکستانی قصائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہنگری کی پولیس نے اپنے بیان میں اس شخص کا پورا نام ظاہر نہیں کیا اور اسے مخفف 'اے زیڈ' سے مخاطب کیا اور ساتھ میں اس کی گرفتاری کے وارنٹ کے بارے میں بھی ذکر کیا۔

اپنے بیان میںمزید بتایا کہ حکومت پاکستان نے اس کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی وارنٹ جاری کیے تھے۔

ملزم کی پاکستان واپسی کے بارے میں فیصلے آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔آسٹریا کے وزیر داخلہ وولف گینگ سوبوٹکا نے کہا کہ 'یہ کیس ایک دفعہ پھر واضع کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعاون عالمی جرائم روکنے میں کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔'

اس کے علاوہ آسٹریا کی پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ہنگری کی پولیس نے یہ قدم آسٹریا کی پولیس کی مدد سے اٹھایا۔

مصنف کے بارے میں