حکومت کا امریکہ سمیت برطانیہ، سعودی عرب، کینیڈا اور قطر میں سفیر تبدیل کرنے کا فیصلہ

 حکومت کا امریکہ سمیت برطانیہ، سعودی عرب، کینیڈا اور قطر میں سفیر تبدیل کرنے کا فیصلہ

  اسلام آباد:حکومت نے امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، کینیڈا اور قطر میں نئے سفیروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وزیر خارجہ نے اس حوالے سے ناموں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔


وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، کینیڈا اور قطر میں نئے سفیروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کیلئے میں نے وزیراعظم کے سامنے کچھ نام پیش کئے جس کی انہوں نے منظوری دیدی ہے۔

انہوں نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر علی جہانگیر صدیقی کو تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ واشنگٹن میں سفیر تعینات کرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے کیوں کہ آپ کسی شخص کو نامزد کرتے ہیں اور وہ نام آگے جاتا ہے اور پھر دونوں ممالک کی باہمی مشاورت سے تعیناتی ہوتی ہے۔حکومت نے امریکہ میں ڈاکٹر اسد مجید خان کو سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو واشنگٹن اور نیویارک میں مختلف عہدوں پر کام کرنے کے علاوہ دفتر خارجہ میں بھی کام کر چکے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ میں نفیس ذکریا کو ہائی کمشنر تعینات کرنے کی تجویز ہے جس کی وزیراعظم نے منظوری دیدی ہے۔ نفیس ذکریا وہاں ڈپٹی ہائی کمشنر رہ چکے ہیں اور وہاں کی چیزوں سے کافی مانوس بھی ہیں۔

 شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ سید احسن رضا کو قطر میں، راجہ علی اعجازکو سعودی عرب میں، حامد اصغر خان کو مراکش، شہریار اکبر خان کو سربیہ جبکہ ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ کو کینیڈا میں سفیر تعینات کیا جارہا ہے۔وزیر خارجہ کے مطابق ہوانا میں صاحبزادہ احمد خان کو سفیر جبکہ دبئی میں احمد امجد علی کو قونصل جنرل تعینات کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام تجویز کردہ نام پیشہ وارانہ صلاحیت اور قابلیت کے حامل ہیں اور سفارتکار رہ چکے ہیں۔وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ گزشتہ حکومتوں نے اپنی پسند کے لوگوں کو مختلف ممالک میں سفیر تعینات کیے۔

خیال رہے کہ اس وقت امریکا میں اس وقت پچھلی حکومت کے مقرر کردہ سفیر علی جہانگیر صدیقی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، انھیں شاہد خاقان عباسی کی وزارتِ عظمی میں واشنگٹن بھیجا گیا تھا۔