نواز شریف حساب دیتے تو ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ نہ کہنا پڑتا ،فواد چودھری

نواز شریف حساب دیتے تو ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ نہ کہنا پڑتا ،فواد چودھری

لاہور :  پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف حساب دیتے تو ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ نہ کہنا پڑتا ۔پریس کانفرنس میں جس طرح عدالتی فیصلے کا مذاق اڑایا گیا اس کی مثال نہیں ملتی اسکا نوٹس لیا جانا چاہیے ن لیگ کی سپریم کورٹ سے کیا دشمنی ہے؟


لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاکستان آئیں تو پروٹوکول ملنا شروع ہو جاتا ہے 45گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ ملزم نواز شریف احتساب عدالت پہنچے اور پانچ منٹ کے بعد واپس روانہ ہو گئے اگر آپ کو اپنی بیگم کی بیماری بھی چٹ دیکھ کر بتانا پڑے کہ وہ بیمار ہیں یا نہیں آپ کو اپنے دکھوں کا حال بھی چٹیں دیکھ کر بتانا پڑے تو کہیں خرابی ہے دل کی باتیں کاغذوں کی زبانی نہیں ہوتیں بلکہ دل کی باتیں تو دل سے ہوتی ہیں انقلاب لانے والے اس طرح کے پروٹوکول میں عدالتوں میں نہیں جایا کرتے اور نہ ہی ایسی شاہانہ زندگیاں گزارا کرتے ہیں ۔فواد چودھری نے کہا کہ پاپا پاکستان واپس آ گئے ہیں لیکن ہمیں پپو اور پیسے بھی پاکستان میں چاہیں اس وقت تین ہزار کروڑ روپیہ پاکستان کے لوگوں کا لندن میں پڑا ہے یہ پیسے واپس آنے چاہیں .

مریم کے پاپانے اپنی پریس کانفرنس شروع کی تو اس بات سے کی کہ میں اداروں سے لڑائی نہیں کرنا چاہتا لیکن فوراً بعد انہوں نے سپریم کورٹ کو چارج شیٹ کیا جس طریقے سے عدالتی فیصلوں کی تضحیک کی گئی پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی. نواز شریف بتائیں سپریم کورٹ کے ججز سے آپ کی کیا دشمنی ہے جے آئی ٹی کے افراد سے آپ کی کیا مخالفت ہے اور فوج کے اعلٰی افسران جن کا تقرر بھی آپ نے خود کیا ان سے آپ کی کیا دشمنی ہے اگر ان کا احتساب کیا جائے تویہ اسے جمہوریت کے خلاف سازش سمجھتے ہیں سپریم کورٹ یہ مقدمہ 134دن چلا ان کی جے آئی ٹی تو چلی 184دنوں میں آپ کے پاس موقع تھا کہ یہ بتا دیں کہ آپ کے پاس یہ پیسے کہاں سے آئے اگر آپ یہ بتا دیتے تو آپ کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ مجھے کیوں نکالا .

اس موقع پر فواد چودھری نے وہ معافی نامہ بھی دکھایا جو نواز شریف اور مشرف کے درمیان ہوااس معافی نامے کے سپانسر سعودی عرب کے سابق شاہ عبداللہ تھے  نواز شریف یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میں ووٹ کے تقدس کی لڑائی لڑوں گا ووٹ کے تقدس کا مطلب تو یہ ہے کہ ووٹ ہوں اور قومی خزانے کو اپنے پاس امانت سمجھوں نواز شریف نے ووٹ کے تقدس کا جو حال کیا ہے وہ ہمارے سامنے ہے نواز شریف ساڑھے چار سال وزیر اعظم اور شہباز بھی مسلسل اتنی مدت سے پنجاب کے وزیراعلٰی چلے آرہے ہیں اگر نواز شریف پاکستان آگئے ہیں تو مردوں کی طرح مقدمات کا سامنا کریں سٹار پلس ڈراموں کی بیواؤں کی طرح چوڑیاں توڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا عدالتیں جوابوں پر فیصلے کریں گی .

انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے میری درخواست ہے کہ امتیازی سلوک کی اجازت نہ دیں ایک طرف یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف چھ چھ سال سے ای سی ایل پر ہیں وہ بھی ملک کے وزرائے اعظم تھے انہیں اپنی ضمانتیں کرانی پڑی ہیں ۔نواز شریف کہتے ہیں کہ باہر جا رہا ہوں اور آپ نے اجازت دے دی اس سے بُرا تاثر جاتا ہے لہذٰا ان معاملات پر عدالت کو دباؤ میں نہیں آنا چاہیے اور موثر عدالتی عمل جاری رہنا چاہیے ۔دوسری طرف اسحاق ڈار وزیر خزانہ ہیں ان پر عدالت میں فرد جرم کیا عائد ہوئی ہے لیکن نہ وزیر اعظم میں حیا ہے اور نہ ان میں یہ شرم ہے کہ وہ اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں ۔ہم سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آج کی پریس کانفرنس کا نوٹس لیا جائے جس طریقے سے نواز شریف نے آج سپریم کورٹ پرچارج شیٹ کیا اور جس طریقے سے سپریم کورٹ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی گئی ان معاملات کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔