انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے احتساب ہوا تو اس کی حمایت کریں گے،شہباز شریف

انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے احتساب ہوا تو اس کی حمایت کریں گے،شہباز شریف

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نااہل کرے یا احتساب عدالت سزا دے تب ڈیل نہیں اور ہائیکورٹ سزا معطل کر دے تو ڈیل ،یہ عجیب بات ہے۔


اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی سے ملاقات، ملاقات میں بیگم کلثوم نواز کے ایصال کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن سے رابطے روز ہوتے ہیں، مدد کے لیے کوئی رابطہ آصف زرداری سے نہیں کیا۔ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ پیپلز پارٹی سے کوئی مدد طلب کی گئی ہو۔

قومی اسمبلی میں پہلی بار نہیں آیا، اس سے قبل 1990ء میں اس ایوان کا ممبر منتخب ہوا۔ پی آر اے کے ساتھ ویسے ہی خوشگوار تعلق رہے گا جیسا سابق سپیکر ایاز صادق کا رہا ہے۔ تمام اپوزیشن کی خواہش ہے کہ متحد ہوکر چلا جائے، تقسیم وزیراعظم اور صدر کے انتخاب پر ضرور ہوئی لیکن اپوزیشن بہرحال ایک ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، قومی ایشوز پر ہم سب ایک ہیں۔ پی اے سی کو میں خود ہیڈ کروں گا اور جو روایات ہیں انہیں برقرار رہنا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خرید و فروخت کی ایک منڈی وزیراعظم اور صدر کے الیکشن میں لگائی گئی، ہم ایسی خرید و فروخت پر یقین نہیں رکھتے۔ پی ٹی آئی نے جس طرح جہاز بھر بھر کے ارکان کو خریدا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ تمام اداروں کا آئین میں ایک کردار ہے، جنہیں آئینی حدود میں ہی رہنا چاہیے۔ 18 ویں ترمیم کی رول بیک کی باتیں فی الوقت قبل از وقت ہیں۔ 70 گاڑیاں نیلام کرنے والے واویلا کر رہے ہیں ہم نے 500 گاڑیاں اپنے دور میں نیلام کیں۔ ضمنی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں، حکومت نے آتے ہی عوام پر مہنگائی بم گرا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے احتساب کیا جائے گا تو اس کی حمایت کریں گے۔ اگر من پسند احتساب کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے۔ میٹرو بس پراجیکٹ کا شوق سے احتساب کریں یا آڈٹ کرائیں لیکن پشاور میٹرو کو بھی شامل کرلیں۔

صدر ن لیگ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک پارلیمانی اقدام ہے لیکن ابھی ملک کو استحکام چاہیے۔ پارلیمنٹ کسی کو بنا بھی سکتی ہے اور ہٹا بھی سکتی ہے، لیکن فی الوقت یہ پری میچور بات ہے۔ بیوروکریسی ملک کی خدمت کر رہی ہے اسے من پسند کی بھینٹ چڑھایا گیا تو خود حکومت کو مشکل ہوگی-