اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاریاں

اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاریاں

اقتدار سے محرومی اور نئے آرمی چیف کی تقرری سے قبل دوبارہ اقتدار نہ ملنے کا غصہ اشتعال اور بے بسی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اعصاب چٹخنے لگے ہیں۔ لگتا ہے خان صاحب آخری بازی کھیلنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ حکومت کے خلاف 24 ستمبر سے تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا لیکن اسلام آباد کی طرف 20 لاکھ افراد جسے وہ قوم کہتے ہیں کی قیادت کرتے ہوئے لانگ مارچ یا شہر اقتدار پر چڑھائی کی تاریخ دینے سے گریز کیا۔ کہا لانگ مارچ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے جھٹ جواب دیا ”ہم نے سوچ لیا ہے۔ ڈی چوک یا ریڈ زون کا رخ کیا تو دھونی دیں گے، وزارت داخلہ نے ایف سی، رینجرز اور پولیس کی تعیناتی کی اجازت مانگ لی ہے۔“ محتاط تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خان صاحب اعصابی دباؤ کا شکار ہیں۔ حالانکہ انہیں کسی دباؤ کا سامنا نہیں۔ ضد اور انا چین نہیں لینے دیتی، تلچھٹ پیتے پیتے اب کہہ رہے ہیں۔ مجھ کو تو مے خانہ چاہیے۔ جمہوری طریقہ سے حکومت گئی اتحادی ساتھ چھوڑ گئے مخلوط حکومت میں ایسا ہونا انہونی بات نہیں۔ بھاڑ میں جائے کرسی، اپوزیشن لیڈر بن جاتے۔ وزیر اعظم کے برابر پروٹوکول، قومی اسمبلی میں اپر ہینڈ ہر قسم کی تنقید کی کھلی چھٹی، ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا آئے۔ ایک سال انتظار کر لیں۔ عوام جھولیاں بھر کر ووٹ دے دیں تو پھر وزیر اعظم بن جائیں۔ جمہوریت اسی کا نام ہے کن کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر کم و بیش چار سال متمکن رہنے کے بعد ایک سال اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بھی مثبت سیاست کر کے دیکھ لیں۔ تجربہ میں اضافہ ہو گا اور اچھے سٹیٹس مین کی حیثیت سے ملک کی ترقی، خوشحالی اور سیاسی استحکام کے لیے بہتر کردار ادا کر سکیں گے۔ اس طرح تیاری نہیں تھی کا اعتراف بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ مہم سے کیا فائدہ ہوا دیواروں کو ٹکریں مار رہے ہیں ادھر سے ٹھڈے پڑتے ہیں ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ عمران خان کے راستے میں حریفوں نے جو کانٹے بچھائے ہیں وہ ابھی تک تو ان تک پہنچے ہی نہیں اپنے بچھائے ہوئے کانٹوں ہی میں الجھے ہوئے ہیں ایوان صدر میں دو اجلاس پہلا اجلاس اگست کے تیسرے چوتھے ہفتہ کے دوران کسی دن ہوا۔ 3 افراد موجود تھے تین سے پانچ منٹ میں ختم ہو گیا۔ مایوسی ہوئی ”کیا کریں بات جہاں بات بنائے نہ بنے“ دوسری میٹنگ بھی ایوان صدر میں ہوئی۔ تین افراد شامل تھے۔ دورانیہ 15 سے 20 منٹ رہا۔ شکوہ کیا ہماری حکومت گرائی گئی جواب ملا حکومت گرائی نہیں آپ منہ کے بل گرے صرف بیساکھیاں ہٹا لی گئیں۔ جیب میں رکھی آفرز کی چٹ جیب میں ہی رہی۔ ون مور چانس پر بات نہ بن سکی۔ یاروں نے خبریں پھیلا دیں ڈیل ہو گئی۔ عمران خان آٹھ سے دس ہفتوں میں دوبارہ اقتدار سنبھال لیں گے حکومت کو دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔ حکومتی وزرا نے برملا کہا کہ کچھ نہیں ہوا۔ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ انتخابات آئندہ سال اکتوبر میں ہوں گے کیونکہ ”نئی بہاروں سے پہلے بہت ضروری ہے جو زخم پچھلی بہاروں کے ہیں وہ بھر جائیں“ اتنی سی بات پر برہم ملک بھر میں 24 ستمبر سے ریلیاں، دھرنے، احتجاج کا اعلان، لانگ مارچ کے بارے میں سرپرائز دیں گے۔ کیا سرپرائز دیں گے یہ عرض پھر کریں گے۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں وہی رونا دھونا۔ آرمی چیف کی تقرری موخر کر دی جائے یعنی نئے چیف کی تقرری ہم کریں 

گے حالانکہ آئین کے مطابق وزیر اعظم کی صوابدید ہے۔ تقرری ہو بھی گئی اب بیٹھے ڈھول بجاتے رہو۔ سراسیمگی کا یہ عالم ہے کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں اپنے فدائین پر ہی چڑھ دوڑے کہ بعض ہمارے ساتھی بالا ہی بالا اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کر رہے ہیں۔ رابطے کرنے والے اردگرد سر جھکائے بیٹھے رہے، سیانوں نے کہا خان صاحب اپنوں اور غیروں سب سے خوفزدہ ہیں۔ وہ اقتدار سے محرومی کے بعد مسلسل اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ کبھی جمہوری سپر میسی کی بات نہیں کرتے۔ کاش وہ کبھی ایک توانا جمہوری لیڈر کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ بد قسمتی سے اس گلی میں داخل ہو گئے ہیں جہاں نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ جلسوں میں کتنے 

لوگ ہوتے ہیں۔ اسے چھوڑیں یہ دیکھیں کہ جلسوں اور اہم اجلاسوں میں ان کی سوچ کیا ہوتی ہے۔ معاف کیجئے لوگ برملا کہنے لگے کہ خان صاحب جس راستے پر چل رہے ہیں وہ جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ایکس وائی زیڈ اور 4 شخصیات کے نام نہیں لیتے صرف اتنا کہہ کر بلیک میلنگ کی کوشش کرتے ہیں کہ نام بتا دوں گا۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ بس چلمن سے لگے بیٹھے ہیں۔ حکومت کو دو ہفتے کی مہلت پھر 20 لاکھ افراد کے جتھوں کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کہتے ہیں تیاریاں مکمل ہیں۔ کیا ہو گا انگلی نہ امپائر نے اعتراف کیا کہ ہمارے پاس پنجاب اور کے پی کے کی حکومت ہے بوٹ نہیں ہیں۔ کیا مطلب پشاوری چپل پہنتے ہیں بوٹ خریدیں مخصوص بوٹ شاید اب نہیں ملے گا۔ غبارے سے بہت سی ہوا نکل چکی۔ رہی سہی بھی مقدمات کے دوران نکل جائے گی۔ مقدمات پر یاد آیا اکیس بائیس مقدمات ہیں۔ 2018ء کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی پر حملے پارلیمنٹ پر حملے، پولیس وین پر حملے، اسد قیصر کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے روکنے اور 25 مئی کو ڈی چوک پہنچنے کی ضد پر توہین عدالت جیسے اقدامات سے تو بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ حالانکہ یہ سارے اقدامات کوئی اور لیڈر کرتا تو انسداد دہشت گردی کی شق 788 کے تحت سزا ہو چکی ہوتی۔ رفت گزشت اب کے سرگرانی اور ہے یاروں نے ٹھانی اور ہے۔ توہین عدالت کا کیس فرد جرم تک آ گیا پہلے دو پیشیوں میں اگر مگر سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو مطمئن کرنے سے بات نہ بنی تو 22 ستمبر کو معافی مانگنے تک آ پہنچے۔ بیان حلفی داخل کرنے کا حکم ملا 3 اکتوبر کو واضح معافی (ٹیکنیکل معافی نہیں) نہ مانگی گئی تو فرد جرم عائد ہو گی۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔ پانچ سال سے پیشیاں بھگتنے اور قید و بند کی سزاؤں کے بعد ضمانتوں پر رہا ہونے والوں کی صف میں شامل ہو گئے چار رہنماؤں کو توہین عدالت میں نا اہلی کی سزا ملی۔ سپریم کورٹ نے ان میں سے کسی کو نہ بخشا۔ سب نے اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑا مگر کسی پر رحم نہ کیا گیا۔ خاتون جج کو دھمکی کی شکل میں صریحاً توہین عدالت کیس میں کیا رویہ ہو گا۔ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ۔ لوگوں کو یقین ہے کہ کچھ نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس نے معافی کے جذبہ کی تعریف کی ہے۔ دیکھیں کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ ادھر توشہ خانہ کیس فارن فنڈنگ کیس اور دیگر کیسوں کی تلواریں لٹک رہی ہیں۔ یار دوست اور پرانے تعلقات والے کہتے ہیں کہاں تک بچو گے کہاں تک بچائیں۔ معاملات اتنے آسان نہیں کہ سب کچھ کے باوجود سب کچھ قائم رہے۔ توشہ خانہ کیس پر فیصلہ محفوظ ہے۔ کسی بھی دن کسی بھی لمحہ آ سکتا ہے جنہوں نے فیصلہ دینا ہے ان کے لیے گھٹیا تک کے الفاظ کہہ دیے گئے اوپر والوں سے امیدیں نیچے والوں سے نو امیدی۔ پسپائی اور کسے کہتے ہیں ایک ہی جھٹکے میں 4 معاملات میں فیصلے خلاف آ گئے توہین عدالت کیس میں بیان حلفی داخل کرنے 8 ضمنی انتخابات میں عدالت عظمیٰ سے رجوع پر غور، مرحلہ وار استعفوں کا معاملہ سپریم کورٹ کے ریمارکس نے پریشان کر دیا کہاں تک سنبھالیں گے اس پر فواد چودھری کی دھمکیاں، کسی کا باپ بھی عمران خان کو نا اہل نہیں کر سکتا۔ آپ نا اہل کر کے اسلام آباد سے نکل نہیں سکیں گے۔ اپنی اوقات میں رہیں۔ کس کو دھمکیاں دے رہے ہیں جنہیں تڑیاں لگائی جا رہی ہیں کیا وہ آسانی سے معاف کر دیں گے۔ سیاسی منظر نامے میں ہر روز تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ عدالتوں سے عمران خان کے مخالفین کو ریلیف ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ مریم نواز کی ایون فیلڈ کیس میں مثبت پیشرفت ہوئی فیصلہ آ گیا تو نواز شریف کو راہداری ریلیف مل جائے گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری بھی معطل کر دیے اور 7 اکتوبر تک انہیں ملک واپسی کا کہہ دیا۔ احسن اقبال نارووال سپورٹس کمپلیکس کیس میں با عزت بری کردیے گئے۔ حالات پلٹ رہے ہیں۔ خان صاحب کو سوچنا ہو گا کہ ان سے پہلے جو رہنما اقتدار سے محروم ہوئے انہیں عدالتوں نے نکالا لیکن خان صاحب کو مقننہ نے اقتدار سے محروم کیا انہیں اِدھر اُدھر کے سہاروں کی تلاش کے بجائے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلسوں اور جتھوں کے ذریعہ شہر اقتدار پر چڑھائی کے بجائے مذاکرات کی جانب بڑھنا چاہیے ان کی طرح سارے چور ڈاکو بھی ضمانتوں پر ہیں۔ اس لیے ان سے گھبرانے کے بجائے ملکی سلامتی خوشحالی اور سیاسی استحکام کے لیے میثاق اسلام آباد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ ایسا نہ کیا گیا تو سارے خواب بکھر جائیں گے شہر اقتدار کے گرد خندقیں کھودنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جتھوں سے اقتدار نہیں ملے گا آگ سے کھیلنے کا کسی کو بھی فائدہ نہیں ہو گا۔

مصنف کے بارے میں