خان صاحب اور نومبر!

خان صاحب اور نومبر!

عمران خان کی، ایشیائی معشوقاؤں جیسی ہزار شیوہ، سیاست کی گتھیاں سلجھانے بیٹھیں تو دماغ کی نسیں چٹخنے لگتی ہیں۔ ان دنوں ان کی شعلہ بار خطابت نے، نومبر میں ہونے والی ایک تقرری کے حوالے سے الاؤ بھڑکا رکھا ہے۔ 

گزشتہ ماہ، 15 اگست کو انہوں نے اپنے معروف کھردرے اسلوب سے ہٹ کر کمال متانت اور سنجیدگی سے نئے آرمی چیف کی تقرری پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا۔ میرا تو اب اس میں کوئی ایشو نہیں۔ یہ تو ابھی گورنمنٹ فیصلہ کرے گی جو بیٹھی ہوئی ہے۔ میزبان نے کریدا، ”یہ والی گورنمنٹ؟ اس وقت تک الیکشن نہیں ہوں گے کیا؟“ خان صاحب نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ”میں نہیں جانتا یہ حکومت ہو گی یا نہیں ہو گی، یا الیکشن کے بعد کوئی نئی حکومت آ جائے گی۔ ابھی یہ ایشو نہیں ہے ہمارا“ اس بیان کی گونج فضا میں دائرے بُن رہی تھی کہ خان صاحب کی سیمابی سوچ نے یکایک پہلو بدلا اور انہوں نے نومبر کی تقرری کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا۔ گزشتہ 75برس میں، حالات کی تلخ و شیریں کروٹوں کے باوجود، فوج کے سربراہ کی تقرری کبھی اس طرح متاعِ کوچہ و بازار نہیں بنی جس طرح خان صاحب نے بنا ڈالی ہے۔ عجب بھید ہے کہ خان صاحب کے بقول، چند دن پہلے تک جو کام ان کا نہیں تھا وہ آنِ واحد میں کیسے اُن کے اعصاب پر سوار ہو گیا؟ اب تو یوں لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیکرِ خاکی کی ساری توانائیاں اسی مہم پر مرکوز کر دی ہیں۔ ایک فرسودہ سے محاورے کے مطابق اپنی سیاست کے ”سارے انڈے ایک ہی ٹوکری“ میں رکھ دیے ہیں۔ 

جنرل ایوب خان سے جنرل قمر جاوید باجوہ تک، ہمارے ہاں اس اہم تقرری کے حوالے سے ہر نوع کی مثالیں موجود ہیں۔ سب سے سینئر بھی، کم و بیش ہم پلہ بھی اور کئی درجے جونیئر بھی۔ کبھی کوئی رولہ نہیں پڑا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو، فور سٹار جنرل بنائے بغیر کمانڈر انچیف مقرر کر دیا تو بھٹو کے حریفوں نے کوئی اختلافی آواز نہ اٹھائی۔ لگ بھگ تین ماہ بعد گل حسن کو فارغ کر کے جنرل ٹکہ خان کو فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ وہ پہلے چیف آف آرمی سٹاف کہلائے۔ کوئی ہاہا کار نہ مچی۔ مارچ 1976 میں سنیارٹی لسٹ میں آٹھویں نمبر کے جنرل ضیاالحق کو آرمی چیف تعینات کر دیا گیا۔ تب بھٹو کی اپوزیشن شیش ناگ کی طرح پھن پھیلائے کھڑی تھی۔ لیکن کسی نے سسکاری تک نہ بھری۔ آٹھویں ترمیم کے تحت مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کا اختیار (وزیراعظم کی مشاورت کے ساتھ) صدر مملکت کو دے دیا گیا۔ 1991 میں آصف نواز جنجوعہ اور 1993 میں عبدالوحید کاکڑ کا انتخاب صدر غلام اسحاق خان نے کیا۔ دونوں بار وزیراعظم نواز شریف کے تجویز کردہ نام مسترد کر دیئے گئے۔ یہی نہیں، غلام اسحاق خان نے آصف نواز اور کاکڑ، دونوں کے کانوں میں پھونک دیا کہ وزیراعظم نے تمہاری مخالفت کی تھی۔ تیس برس ہونے کو آئے، آج تک نواز شریف نے اس قصہِ پارینہ کی پوٹلی نہیں کھولی۔

تحریک انصاف کے چھبیس سالہ سفر کے دوران عمران خان نے بھی، کبھی آرمی چیف کی تقرری کو سوہانِ رُوح نہیں بنایا۔ 2013 میں انتخابی شکست کے بعد انہوں نے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو سینگوں میں پرو لیا۔ اُسے دھاندلی کی پیداوار ناجائز حکومت کہا۔ کئی کئی ماہ کے فتنہ ساماں دھرنے دیئے۔ حکومت کے قدم جمنے لگے تو اپریل 2016 میں پاناما نے انگڑائی لی۔ خان صاحب کے سوکھے دھانوں پر چھاجوں پانی برسا۔ دھرنوں کی ایک نئی لہر اٹھی۔ اکتوبر 2016 میں ڈان لیکس نے اُن کے لہو میں چنگاریاں بھر دیں۔ تب پاناما کی فصل بھی پک چکی تھی۔ خان صاحب کے خوابوں میں تعبیر کی شفق بھرنے لگی۔ اور آخر اکتوبر میں انہوں نے اسلام آباد کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ یکم نومبر کو سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی۔ اُسی ماہ، نومبر کی 29 تاریخ کو وزیراعظم نے نئے آرمی چیف کی تقرری کرنا تھی۔ تب عمران خان اپنی مخصوص طبعِ ہنگامہ جُو کے مطابق بہ صد آسانی ایک سونامی بپا کر سکتے تھے کہ نواز شریف پر کرپشن کا کیس چل رہا ہے۔ وہ اس کیس کا بڑا ملزم ہے۔ ڈان لیکس نے اسے سکیورٹی رسک بھی ثابت کر دیا ہے۔ یوں بھی وہ دھاندلی کر کے اقتدار میں آیا ہے۔ ایسے شخص کو کیسے فوج کے سربراہ کی تقرری کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ادارے کی توہین ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کوئی معصوم سا حرفِ ناروا بھی اُن کی شعلہ بار زبان پر نہ آیا۔ تقرری سے پہلے نہ تقرری کے بعد۔

خان صاحب کا تازہ ترین نکتہِ اعتراض یہ ہے کہ موجودہ حکومت امپورٹڈ ہے۔ بائیڈن، میر جعفروں اور میر صادقوں کی قائم کردہ ہے۔ حقائق کچھ اور کہتے ہیں۔ 25 جولائی 2018 کو قومی سطح پر انتخابات ہوئے۔ سر شام ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔ شب کے نو بجے ترسیل نتائج کے نظام (RTS) کی نبضیں ڈوب گئیں۔ انتخابات پر نظر رکھنے والے معتبر ادارے فافن کی رپورٹ کے مطابق ریٹرننگ افسروں کی طرف سے جاری کیے گئے 95 فیصد فارم 45، پولنگ ایجنٹوں (سیاسی جماعتوں کے نمائندوں) کے دستخطوں سے عاری تھے۔ اس مشقِ ناز کے باوجود تحریک انصاف 16903702 (31.82 فیصد) ووٹ حاصل کر پائی۔ پول ہونے والے باقی 3622003 (68.18 فیصد) ووٹ خان صاحب کے اُن مخالفین نے حاصل کیے جو تقریباً سب کے سب آج کی مخلوط حکومت کا حصّہ ہیں۔ اگر صرف چوروں یعنی مسلم لیگ(ن) کے 12934589 (24.35 فیصد) اور ڈاکوؤں یعنی پیپلز پارٹی کے 6924356 (13.03 فیصد) ووٹوں کو شمار کر لیا جائے تو یہ 19858945 (37.40 فیصد) یعنی پی ٹی آئی سے 5.56 فیصد زیادہ ہیں۔ سوال نہایت سادہ و معصوم ہے کہ 31.82 فیصد لینے والا اپوزیشن لیڈر، تقریباً 68 فیصد ووٹ رکھنے والی حکومت پر یہ دھونس کیسے جما سکتا ہے کہ آرمی چیف تم نہیں، میں لگاؤں گا؟ یہ حکومت کسی مسلح یا غیر مسلح انقلاب کے ذریعے نہیں، آئین میں درج ایک واضح دستور العمل کے تحت وجود میں آئی ہے۔ خان صاحب کے کسی خانہ ساز تصّور ِسازش یا امپورٹڈ کی گالی کی بنیاد پر وزیراعظم کا آئینی استحقاق، خان صاحب کی طفلانہ ضد کی نذر کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی ایک ان کے دل میں تیرِنیم کش کی طرح ترازو ہے اور کوئی دوسرا لالہ و گل کی طرح مہک رہا ہے تو صرف خان صاحب کی دلداری کیلئے آئین اور فوج کو تماشا تو نہیں بنایا جا سکتا۔

مصنف کے بارے میں