ان طریقوں پر عمل کرتے ہوئے گردوں کی پتھری سے بآسانی بچا جا سکتا ہے

ان طریقوں پر عمل کرتے ہوئے گردوں کی پتھری سے بآسانی بچا جا سکتا ہے

لاہور:انسانی جسم میں گردے جیتنی اہمیت کے حامل ہیں اتنے ہی یہ حساس بھی ہیں اور ذرا سی بے احتیاطی گردوں میں پتھری کا باعث بن سکتی ہے جس سے آپ کے گردے فیل ہو جاتے ہیں ۔اسی لیے کہتے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور چھوٹی چھوٹی چیزوں میں احتیاط سے اس بڑے دھچکے سے بچا جا سکتا ہے ۔


پانی کا زیادہ استعمال

دن میں کم از کم دو سے تین لیٹر پانی کا استعمال کرنا چاہئے ۔پانی کم پینے کی صورت میں گردوں میں ڈی ہائیڈریشن ہو جاتی ہے اور گردوں میں موجود منرلز باریک کرسٹلز کی شکل اختیار کر جاتی ہیں جو آہستہ آہستہ پتھری کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

نمک کا کم استعمال

ہمارے ہاں کھانے میں نمک کا استعمال بے دریغ کیا جاتا ہے جو کہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ۔ماہرین کے مطابق ایک صحت مند آدمی کو پورے دن میں زیادہ سے زیادہ تین سے پانچ گرام نمک استعمال کرنا چاہئے۔نمک کا زیادہ استعمال آپ کے گردوں میں پتھری کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ آپ کے جسم سے زیادہ استعمال کا نمککیلشیمکی صورت میں بدل کر پتھری بن جاتا ہے ۔

آگزالیٹ (Oxalate) سے بھر پور غذا

آگزالیٹ نامی دھات سے بھر پور کھانے پینے کی اشیاءکا استعمال بھی گردوں میں پتھری کا باعث بنتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دھات کو جب نظام انہظام سے گزرنا پڑتا ہے تو اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی بجائے یہ گردوں میں پہنچ کر پتھری کا باعث بنتی ہے۔نہ صرف یہ بلکہ کیلشیم اور آگزالیٹ ملکر بھی پتھری کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 80فیصد گردوں کی پتھری کیلشیم آگزالیٹ کی وجہ سے ہی بنتی ہے۔پالک،میوہ جات،بیریز اور سویا کی تمام مصنوعات ہمارے جسم میں آگزالیٹ کی مقدار بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

کیلشیم کا مناسب استعمال

ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے کہ کیلشیم کا استعمال ہی پتھری کا باعث بنتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیلشیم کا غیرمناسب استعمال پتھری کا باعث بنتا ہے ۔ماہرین کے مطابق روزانہ 1-1.2گرام کیلشیم کا استعمال لازمی ہے ۔اس سے کم مقدار بھی پتھری کا باعث بنتی ہے کیونکہ کیلشیم کی غیر موجودگی میں آگزالیٹ کا لیول بڑھ جائے گا اور اس سے زیادہ مقدار بھی گردوں میں جمع ہو کر نقصان دہ ہوتی ہے۔