آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل

آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق بجلی کے نرخ بڑھانے کیلئے حکومت نے تمام رکاوٹیں ہٹا دیں ہیں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اختیار اپنے پاس رکھ لیا ہے جبکہ اس کیساتھ ہی بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری بھی مکمل کر لی گئی ہے اور یہ اضافہ بنیادی ٹیرف اور ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا جائے گا۔

 نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آرڈیننس کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا اختیار حکومت کے پاس ہے جبکہ ماضی میں حکومت نیپرا کو درخواست کرتی تھی اور پالیسی گائیڈ لائنز دیتی تھی لیکن آرڈیننس کے بعد اب حکومت نیپرا کو پالیسی ہدایت دے سکتی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل نیپرا صارفین پر 676 ارب روپے کا اضافی بوجھ کی سماعت کر چکی ہے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بجٹ کے نام پر 676 ارب روپے وصول کرنے کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں سنائے جانے کا امکان ہے، منظوری کی صورت میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) صارفین سے 365 ارب وصول کئے جا سکیں گے۔ 

صارفین پر 676 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری کی صورت میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی جانب سے 269 اب روپے اضافی اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی جانب سے 42 ارب روپے اضافی وصول کئے جانے کا امکان ہے۔