روس اور تاجکستان نے افغانستان میں بمباری کی تردید کر دی

روس اور تاجکستان نے افغانستان میں بمباری کی تردید کر دی

image by facebook

کابل :افغان حکم کے مطابق پیر کی صبح تاجکستان یا روسی جنگی طیاروں نے افغانستان کی شمال مشرقی سرحد پر طالبان اور تاجک سرحدی فورسز کے مابین جھڑپ کے دوران طالبان کو نشانہ بنایا لیکن روسی اور تاجک حکام نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز نے تخار صوبے کی پولیس کے ترجمان خلیل آسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس فضائی حملے میں آٹھ طالبان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے اس کے علاوہ طالبان اور تاجک سرحدی فورسز میں جھڑپ میں دو تاجک اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں ، خلیل آسر نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ طیارے تاجک فضائیہ کے تھے یا روس کے۔

افغان وزارت دفاع نے اس واقع پر فوری طور پر کوئی رد عمل دینے سے انکار کر دیا ہے ، دشمبے میں تاجکستان کے بارڈر گارڈز کے ایک ترجمان نے کہا کہ تاجک فضائیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور دو تاجک اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر کی بھی تصدیق نہیں کی۔

روائٹرز نے ایک تاجک سرکاری اہلکار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ،اس کے حوالے سے کہا کہ افغانستان کے دراندازوں کی طرف سے تاجک محکمۂ جنگلات کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ تیسرا اپنی جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

تاجکستان کے مقامی صحافی سکندر فیروز نےبتایا کہ تاجکستان کی وزارت دفاع نے افغانستان کی سرزمین پر بمباری کی تردید کی ہے، ادھر روس کی وزارت دفاع نے بھی افغانستان میں بمباری کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل پاکستان میں قائم افغان اسلامک پریس نے خبر دی تھی کہ تاجکستان کے جنگی طیاروں نے پیر کی صبح شمالی افغانستان کے صوبے تخار کے ضلع دارقد میں طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق تاجکستان کی فضائیہ اُس وقت حرکت میں آئی جب تخار صوبے کے ضلع درقد میں طالبان اور تاجکستان کے سرحدی محافظوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں دو تاجک سرحدی گارڈز مارے گئے۔