افغانستان سے جانے کے خواہشمند تمام شہریوں کو 31 اگست تک نکالنا ممکن نہیں: امریکہ

افغانستان سے جانے کے خواہشمند تمام شہریوں کو 31 اگست تک نکالنا ممکن نہیں: امریکہ
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

واشنگٹن: امریکہ نے کہا ہے کہ 31 اگست تک انخلاءکی خواہش رکھنے والے تمام افغان شہریوں کو نکالنا ممکن نہیں ہے اور اس عمل کو جاری رکھنے کیلئے طالبان کا تعاون ضروری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا تھا کہ ہمیں طالبان پر اعتماد نہیں ہے لیکن درحقیقت طالبان کے تعاون سے ہم ایک لاکھ سے زائد افراد کے انخلاءمیں کامیاب ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود 31اگست تک انخلا کے خواہش مند تمام افغان شہریوں کو نکالنا ممکن نہیں ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ افراد کی جانیں بچانا اہم ہے اور افغانستان سے غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے انخلاءکے عمل کو جاری رکھنے کیلئے طالبان کا تعاون بہت ضروری ہے۔ 

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد پاکستان غیر ملکیوں کے انخلاءمیں سب سے آگے ہے جس نے اب تک 30 سے زائد ممالک کے ایک ہزار 335 افراد کو اسلام آباد پہنچایا جس پر مختلف ممالک کی جانب سے پاکستان کا شکریہ ادا بھی کیا جا رہا ہے۔ 

پاکستان نے15 سے 24 اگست کے دوران کابل سے 24 پروازوں کے ذریعے ایک ہزار 335 غیر ملکی مسافروں کو کابل سے نکال کر اسلام آباد پہنچایا۔ ان افراد میں ڈنمارک کے 43، کینیڈا کے 14، ہالینڈ کے 40، بیلجیم کے 15، ترکی کے 42، برطانیہ کے 2 اور امریکہ کے 11 شہری شامل ہیں۔ 

پاکستان نے افغانستان سے غیر ملکی افراد کے انخلاءکے دوران اقوام متحدہ کے تین اہلکاروں کو بھی کابل سے نکالا جبکہ مجموعی طور پر بلغاریہ، فرانس، جرمنی، یونان، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، فلپائن اور جنوبی افریقہ سمیت 30 سے زائد ممالک کے شہریوں کو پاکستان نے افغانستان سے نکلنے میں مدد کی۔ 

افغانستان سے انخلاءآپریشن کے دوران پاکستان پہنچنے والے غیر ملکیوں میں 874 افغان شہری بھی شامل ہیں جبکہ اسلام آباد سے کابل جانے والی پروازوں کے ذریعے 521 مسافر افغانستان بھی گئے، غیر ملکی شہریوں کے محفوظ انخلا پر مختلف ممالک نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ ادا بھی کیا۔