سیلاب اور ہجرت

سیلاب اور ہجرت

ہند کا بٹوارہ ہواتو لاکھوں مسلمانوں نے گھر ،کاروباراور جائیدادیں چھوڑ کر نئے ملک پاکستان کی طرف ہجرت کرلی وہ بھی ماں باپ اوربہن بھائیوں کے ساتھ ایک مہاجر قافلے میں شامل ہوگیا سفرکے مصائب ایک ٹرین میں سوار ہونے کی وجہ سے تھوڑی دیر کم ہوئے مگر بھوک و پیاس ختم کرنے کے لیے کچھ زادِ راہ نہ تھا پھر بھی چھوٹاہونے کی بناپر ماں باپ اور بہن بھائی اُس کا خاص خیال رکھتے اسی بناپر ذہن میں بیٹھ گیا کہ ہجرت دراصل مصائب و آلام سے نجات کا باعث بنتی ہے مگر بلوائیوں کے حملے میں ماں باپ اور بہن بھائیوں سے محرومی کا صدمہ ناقابلِ برداشت تھا آخرکارکسی نہ کسی طرح آزاد وطن پہنچ گیا انجان لوگ اور انجان سرزمین کے باوجود اُسے کامل یقین تھا کہ اب یہاں کوئی اُسے نقصان نہیں پہنچاسکتالوگ باتیں کرتے کہ نئے ملک کومعاشی مسائل درپیش ہیں اسی لیے کسی کے آگے دامن پھیلانے کے بجائے لڑکپن میں ہی محنت مزدوری کرنے لگا کب بچپن رخصت ہوا ، کب جوانی آئی اورکب شادی ہوئی رحمت کے زندگی میں آنے سے ایک غمگسار رفیق مل گیا وقت گزرنے کا اُسے پتہ ہی نہ چلا اللہ نے اولاد کی نعمت سے نواز اتو ہجرت کے دُکھوں اور زخموں کی یادیں اور تکلیفیں کسی حدتک بھولنے لگیں لیکن تنہائی میں ماں باپ کی شفقتیں اور بہن بھائیوں کے لاڈ وپیار کی یاد یں تڑپانے کو آدھمکتیں تو اُس کی پلکیں بھیگ جاتیں لیکن وہ دعا کرنے کے سوا کر بھی کیا سکتا تھا اسی لیے کسی سے غم کا ذکر کرنے کے بجائے خود تک ہی محدود رکھتا۔

 سچی بات تو یہ ہے کہ رحمت اُس کے لیے واقعی رحمت ثابت ہوئی دونوں سارا دن مشقت کرتے اور پھر رات کو جب دنیا سہانے خوابوں میں کھو جاتی تووہ اپنی شریکِ حیات کے ساتھ گھروندے کی تعمیر میں جُت جاتاپُختہ اینٹیں کیسے خریدتے مستری و مزدور کو اُجرت دینے کی استطاعت تک نہ تھی اسی لیے ایک مٹی کے ڈھیلے سلیقے سے رکھتا جاتا تو دوسرا گارا فراہم کرنے کی ذمہ داری اُٹھا لیتا وقت یونہی گزرتا رہا گھر کی تعمیر کے ساتھ کُنبے کی تعداد بڑھتی گئی ایک بار کسی نے بتایا دونوںملکوں میں جنگ لگ گئی ہے تو وہ سوچنے لگاکہ ہجرت کے دوران قتل و غارت سے کیا دل نہیں بھراجو پھر جنگ لڑ کر ایک دوسرے کا خون بہانے لگے ہیں کیسے عجب لوگ ہیں مدد کرنے کے بجائے بے گھر کرنے میں لُطف محسوس کرتے ہیں کبھی تنہائی کا احساس دوچند ہوجاتاتو وہ اپنے ملک کے معاشی مسائل حل کرنے کی اللہ سے دعاکرنے لگتا رمضان میں سائرن بجتا توتو ہر طرف افطاری کا شور مچ جاتا طرح طرح کے پکوانوں کی اشتہا انگیز خوشبو اُس کے نتھنوں سے ٹکراتی مگرملک کے معاشی مسائل بارے سنی باتوں کی وجہ سے وہ کسی سرکاری اہلکار کے آگے دامن پھیلانے کی ہمت نہ کر سکا بچے بڑے ہوئے تو سب کی شادیاں رچادیں بھرے پُرے کنبے کو دیکھ کر جیسے اُ س کے دل کو قرار سا آگیا اور پھر ہجرت کے تلخ ایام جیسے بھولنے سے لگے۔

2008 میںگھر کے فرد کام پر جانے کی تیاریوں میں تھے اور بڑھاپے کے باوجود رحمت صبح کا کھانا بنانے میں بیٹیوں کا ہاتھ بٹارہی تھی کہ 

اچانک زمین لرزنے سے ہر طرف چیخ و پکار ہونے لگی لرزتے گھر کی وجہ سے سب صحن میں آ گئے تو رحمت مٹی کا گھروندہ زیادہ مضبوط نہ جانتے ہوئے بھاگ بھاگ کر اندر سے اشیا باہر لانے لگی سب نے منع بھی کیا مگر بڑھاپے کی کمزوری کے باوجود گھر کی اشیا کو محفوظ کرنے میں مصروف رہی آٹا،برتن اور سامان نکال نکال کر صحن میں ڈھیر کر تی جارہی تھی کہ ایک زور دار جھٹکے سے کچا گھر زمین بوس ہو گیا وہی رحمت جس نے برسوں محنت مزدوری میںساتھ دیا گھر کی تعمیر میں برابر کی شریک رہی وہ ملبے تلے دب کر دم توڑ گئی جس پر اُسے محسوس ہواکہ ہجرت کی آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی کسمپرسی کی وجہ سے تجہیز و تکفین کی سوچیں پریشان کرنے لگیں دل سے ایک ہی آواز آتی کہ جس نے ہر مشکل ساتھ دیکر ہمیشہ ڈھارس بندھائی اُس کی آخری ہجرت کچھ بہتر ہونی چاہیے انھی سوچوں میں کب شام ڈھلی اور پھرکب دن طلوع ہوا پتہ ہی نہ چلا اور پھرسوٹ بوٹ پہنے کچھ سرکاری بابو آئے اور افسوس کرنے کے ساتھ کچھ رقم تھماتے ہوئے تصاویربنوا کر چلے گئے کچھ رقم رحمت کی تجہیز و تکفین میں اُٹھ گئی واقعی وہ رحمت تھی زندگی بھر دکھوں سے بچاتے بچاتے آخری ہجرت پر بھی پریشانی نہ ہونے دی اُس کے جانے کے بعد کمزوری اور تنہائی کا احساس فزوں تر ہو گیاکچھ دن گزرے تو کسی نے اخبارمیں شائع ہونے والی تصویرکا بتایا تو جیسے دل چھلنی سا ہو گیا جس ملک پر پورا خاندان قربان کر دیا وہ معمولی سی رقم دینے کی تشہیرکرنے اور ایک غریب کو رسواکرنے کا سامان کر گئے ۔

پانی اللہ کی رحمت ہے یہ مردہ زمین کو زندہ کرتا اور ہرابھرا کرتا ہے وہی گارے اور مٹی کا بنا گھر جو زلزلے کی تباہ کاریوں کی نذر ہو گیا تھا ایک بار پھر جیسے تیسے بنا لیا تھا کہ 2010  کواچانک خبر آئی امسال چھاجوں بارش برسنے سے سیلاب آگیا ہے جس کی وجہ سے دریائوںو ندی نالوں میں طغیانی ہے اِن خبروں سے دل دھڑکنے لگا کہ جانے اب کسے ہجرت کا سامنا کرناپڑے گامعاشی مسائل میں گھرے ملک کے حکمرانوں نے انجلینا جولی کی خدمت میں دیدہ دل فرش راہ کردیے لیکن ہم وطنوں کومعاشی مسائل کارونا روکر ٹرخادیاپھر ایک شام سائرن بجنے لگے ایسے ہی سائرن رمضان میں افطاری کے وقت بھی بجائے جاتے ہیں لیکن اب کہ سائرن میں کچھ اور قسم کی ہی شدت محسوس ہوئی یہ ایک بارپھر بڑے سیلاب کے خطرے کا سائرن تھا کوئی پیدل اور کوئی سواری پر سوار جان بچانے کے لیے گھر بار چھوڑکر بھاگتا نظر آیا دیکھتے ہی دیکھتے لمحوں میں ساراگائوں ویران ہو گیااُس کے پاس کنبے کے چند افراد کے سوا کچھ تھا ہی نہیں کمزور سی جان چلنے سے قاصر تھی اسی لیے اہلِ خانہ کو نمناک آنکھوں سے جلدی جلدی رخصت کیابندھے جانوروں کو آزاد کر دیا اور بیٹھ کر یہ انتظار کرنے لگا کہ دیکھیں یہ سیلاب کِس کی ہجرت کا پیغام لاتا ہے ؟

پانی کے شور سے ایک بار تو خوفزدہ ہو گیا مگر ہمت کرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح چھت پر پہنچ گیا لیکن مٹی کا گھروندہ کب تک ثابت قدم رہتاپانی کابہائو اُسے بھی ریت کی مانند بہا لے گیا اسی لیے چھت پر ہونے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا 2008کے زلزلے نے اُس کی شریکِ حیات رحمت کوچھین کر آخرت کی طرف ہجرت کرائی یہ سیلاب اُسے ہجرت کا پیغام دیتا محسوس ہوا ناتواں وجود بچانے کی ہر ممکن کوشش کی مگرکوئی تدبیرکامیاب نہ ہوئی ہرکوشش ناکام ہوتی گئی دیکھتے ہی دیکھے سال بھر کے لیے گھر میں جمع گندم پانی کا حصہ بن گئی پھر گھر کا سامان پانی میں بہتا دکھائی دینے لگا گھر گرنے کے بعد وہ خود بھی منہ زورپانی میں غوطے کھانے لگا لیکن دورو نزدیک کوئی بچانے والا نظر نہ آیا وہی لاٹھی جس کے سہارے چند قدم چل لیتا تھا پانی نے وہ بھی چھین لی اِن لمحات نے اُسے یقین دلا دیا کہ یہ سیلاب رحمت نہیں زحمت ہے یہ مردہ زمین کو زندہ کرنے کے بجائے تباہی پھیلائے گا سیلاب سے اُسے آخری ہجرت یقینی نظر آنے لگی حکمران تو ملک کی معاشی حالت کی خرابی کا رونا روتے ہوئے باور کراتے رہتے ہیں کہ وہ عوام کی مد د سے قاصر ہیں اُس نے بھی یقینی موت دیکھ کر خود کو پانی کی بے رحم لہروں کے سپرد کر دیا ڈوبنے اُبھرنے میں چندلمحے ہی لگے اور پھر دن کی روشنی کے باوجود اندھیراسا محسوس ہونے لگاپانی کا شور بھی جیسے کم ہونے لگااُس نے خودکوخاصا ہلکا پھلکا محسوس کیا ڈوبنے کے بجائے اب وہ پانی پر تیرنے لگا بھوک تک کا احساس بھی ختم ہو گیا اِس سیلاب نے جیسے زندگی کی تمام مشکلیں آسان کر دیں اب کوئی حکومت، سیاسی و سماجی رہنما مدد کرتا ہے یا نہیں ملک کی 75 برس بعد بھی جیسی معاشی حالت ہے اُس نے اسلام کے قلعے میں رہائش پذیربائیس کروڑ پاکستانیوں کو خداحافظ کہہ دیا ۔