سیاست کے ایک اہم باب کو ہم سے بچھڑے 9سال بیت گئے

سیاست کے ایک اہم باب کو ہم سے بچھڑے 9سال بیت گئے

لاہور : پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اگر پیپلزپارٹی میں کوئی جانا گیا تو اس کانام ہے "بے نظیر بھٹو"۔اگر باپ نے کسی آمر کے سامنے سرنہیں جھکایا اور پھانسی پر جالٹکے اور امر ہوگئے تو ایسے بہادر باپ کی بیٹی نے ملک واپسی کا اس وقت ارادہ کیا جب دہشتگرد ان کیخلاف سر گرم تھے اور دہشتگردوں نے اپنے بدترین عزائم کانشانہ بناتے ہوئے مشرق کی بیٹی بے نظیر بھٹو کوسانحہ لیاقت آباد میں قتل کردیا ، آج بے نظیر بھٹو کوہم سے بچھڑے 9سال بیت گئے ۔


آج بھی ہمیشہ کی طرح پھر سے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کویاد کر کے کوسا جائے گا اور بدلہ لینے کا عہد کیا جائے گا27دسمبر ایسے ہی گزر جائے گااور ایک نیا دن شروع ہوجائے گا ۔ یہاں تک کہ شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پی پی پی نے 2008 میں حکومت سنبھالی ،مگر پانچ سالہ حکومت میں بی بی بی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ، جبکہ سکارٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ کی انوسٹی گیشن ٹیموں نے پاکستان کادورہ کیا مگر کوئی بھی نتیجہ حاصل نہ ہوا اور دورے بے سود ثابت ہوئے ۔

آج آصف زرداری، بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ سمیت متعدد رہنما لاڑکانہ پہنچ گئے ہیں۔ گڑھی خدا بخش میں مرکزی تقریب کے انتظامات مکمل کر لیے گئے۔ اسٹیج تیار، جلسہ گاہ میں پارٹی پرچم، ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو، مرکزی قیادت کی تصاویر اور بڑے بڑے پوسٹرز آویزاں کر دیئے گئے ہیں۔آصف زرداری اور مراد علی شاہ نے بی بی کے مزار پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔۔ بینظیر اور بھٹو خاندان کے مزاروں پر فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے۔۔ گڑھی خدا بخش میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

جمہوریت کی بقا، اس کی خاطر قربانیوں، انسانی حقوق کے تحفظ، صنفی امتیاز کے خاتمے اور عوام دوست نظریات کے باعث انہیں تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

بے نظیر بھٹو نے کراچی میں 21 جون 1953ءکو آنکھ کھولی۔ اِسی شہر سے ان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر راول پنڈی کے کانونٹ اسکول میں داخل کروا دی گئیں۔ بعد ازاں کانونٹ اسکول مری میں تعلیمی سفر آگے بڑھا۔ پاکستان میں ابتدائی تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا چلی گئیں۔ 1969ءسے 1973ءتک وہ ریڈکلف کالج اور ہاورڈ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہیں۔ اگلے تعلیمی مرحلے میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں قدم رکھا۔ یہاں سے ”بین الاقوامی قانون اور ڈپلومیسی“ کا کورس مکمل کیا اور اسی سال آکسفورڈ کے ایک کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس کالج سے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات کی تعلیم مکمل کی۔ 1976  میں وہ آکسفورڈ یونین کی صدر بھی منتخب ہوئیں۔

1977ءمیں جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا تو بے نظیر کی والدہ نصرت بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ اس دوران بے نظیر بھٹو تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس آگئیں اور وہ بھی آمر کے عتاب کا نشانہ بنیں۔ انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے باقاعدہ پارٹی قیادت سنبھالی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد شروع کی۔ ضیا الحق کے بعد جماعتی انتخابات کے نتیجے میں وہ پاکستان اور دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور دو بار اس منصب پر فائز ہوئیں۔

اپنے دورِ حکومت میں بے نظیر بھٹو نے خواتین کی بہبود بالخصوص ان کی صحت کے حوالے سے اہم پالیسیاں بنائیں اور اقدامات بھی کیے۔ عورتوں کے خلاف متعدد امتیازی قوانین کا خاتمہ بھی انہی کا کارنامہ ہے۔ بے نظیر بھٹو وومن پولیس اسٹیشن، عدالتیں اور ترقیاتی بینک قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی تھیں، تاہم انہیں دونوں مرتبہ اقتدار سے الگ کیا گیا اور وہ اپنے منصوبوں پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ کرسکیں۔ 2002ءکے عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو ملک میں آکر اپنی پارٹی کی قیادت نہ کرسکیں، تاہم ان کی غیر موجودگی میں پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا۔

18 اکتوبر 2007ءکو وہ وطن واپس آئیں۔ وہ 2008ءکے عام انتخابات میں بھرپور انداز میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی تھیں، مگر لیاقت باغ کے سانحے میں ان کی زندگی کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔جمہوریت کی بقا، اس کی خاطر قربانیوں، انسانی حقوق کے تحفظ، صنفی امتیاز کے خاتمے اور عوام دوست نظریات کے باعث بے نظیر بھٹو کوتاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔