بھارت امریکہ دفاعی گٹھ جوڑ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ہے

بھارت امریکہ دفاعی گٹھ جوڑ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ہے

اسلام آباد:جنیوا میں این ایس جی کے حوالے سے گفت و شنید اور بھارتی وزیرِ اعظم کی این ایس جی میں شمولیت کی شاطرانہ کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب یہ انکشاف ہوا کہ نو بھارتی ادارے نیو کلئیر ٹیکنالوجی کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی وجہ سے حالیہ عرصے میں امریکہ کی درآمدی کنٹرول کی فہرست کا حصہ تھے ۔


تاہم اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ اس سارے کے باوجود موجودہ امریکی انتظامیہ اپنے آخری ایام میں بھارت کی نیو کلئیر سپلائر گروپ کی رکنیت کے حصول میں مدد کر رہی ہے۔ساتھ ہی پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کےخلاف کسی معتبر شہادت کے بغیر ہی سوشل میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پرپاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے ۔اہم اقدامات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں” ایکسپورٹ کنٹرول نیو کلئیر سپلائر گروپ ،ہائی ٹیک تجارتے پر پابندی “ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اپنے آخری مہینوں میں برتے گئے تعصب کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداروں کی فہرست کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ڈی جی ساسی ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہاکہ غیر مصدقہ اور مشکوک ذرائع جیساکہ سوشل میڈیا، تجارتی ویب سائٹوں، انٹیلی جنس رپورٹوں اور وکی لیکس کی بنیاد پر تعمیر کردہ الفا پروجیکٹ پر شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کا مقصد پاکستان کے پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات اور خدشات پیدا کئے جار ہے ہیں۔ ایسی رپورٹوں سے نہ صرف پاکستان کی نیوکلئیرسپلائر گروپ میں شمولیت کا کیس پیچیدہ ہوجائے گابلکہ آنے والی نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ باہمی تعاون کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہاکہ ایسے ذرائع پر بھروسہ کرکے تشکیل دی گئی رپورٹ کو امریکہ کی اداروںکی فہرست میں شمولیت یا پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے بارے میں تشویش پیدا کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ پاکستانی کمپنیوں کی امریکہ کی اداروں کی فہرست میں شمولیت ، جیسا کہ الفا رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا،پاکستان کی دفاعی ، نیوکلیائی اور عمومی صنعتوں کو بری طرح متاثر کرے گی۔

مذکورہ پروجیکٹ کا بظاہر مذموم مقصد مخصوص عناصر کے ایما ئپر پروپیگنڈاکو بنیاد بنا کر پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی صنعتوں کو نشانہ بنانا ہے۔

مزید برآں یہ رپورٹ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کی امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدہ تربنانے کی کوشش بھی ہے۔