موسیقی روح کی غذا نہیں ہے ، اسرائیل یونیورسٹی

موسیقی روح کی غذا نہیں ہے ، اسرائیل یونیورسٹی

تل ابیب :اکثر آپ نے لوگوں سے سنا ہو گا کہ موسیقی روح کی غذاہے ۔یورپ سمیت ایشیا اور مسلمان ممالک میں تو موسیقی جیسے قبیح کام کو روح کی غذا قرار دی کر بھی اسی کی ترویج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔


لیکن ماہرین کی جانب سے جاری کر دی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ نے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے اور اسلام کی حقانیت کا ثبوت خود ہی فراہم کر دیا ہے۔اسرائیل کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موسیقی پر تشدد اور منفی جذبات کر پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین نے ایک سو پچاس طلبہ کو موسیقی کی مختلف اقسام سنا کر ان کی طبع اور حرکات و سکنات پر خاص ریسرچ کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ریپ اور میٹل جو کہ تیز موسیقی کی دو اقسام ہیں کے سننے والے لوگ متشدد رویہ جلد ی اپنا لیتے ہیں اور کسی کے اکسانے پر تشدد اور جارحیت کو بہت جلد اپنا لیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تیز موسیقی سننے والے لوگوں کو سیاستدان اور شدت پسند گروہ بڑی آسانی سے اپنے مذموم مقاصد کےلئے استعمال کر سکتے ہیں ۔اس لئے موسیقی کو امن کی آواز یا روح کی غذا سمجھنا خود کو اندھیرے میں رکھنے اور دھوکا دینے کے مترادف ہی ہوگا۔