ہر گھڑی تیار کامران، پاکستانی افواج کے جوان

ہر گھڑی تیار کامران، پاکستانی افواج کے جوان

میرے لئے یہ احساس ہی قابل فخر ہے کہ میری جانب ہر نگاہ غلط کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے میرے جوان، وطن عزیز کی سرحدوں پر سینہ سپر ہیں۔یہ دھرتی کے بیٹے مادر وطن کے بہتر کل کے لئے اپنا آج قربان کر دیتے ہیں .


مملکت پاکستان نے مختلف تکلیف دہ ادورا دیکھیں ہیں، جس سے خلاصی کے لئے مسلح افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے، ملک میں قحط آئے، زلزلے آئیں ، کہیں آگ لگ جائے، موسمی تندیلی کے باعث شدید گرمی پڑے یہ دھرتی کے سپوت ہر وقت مادر وطن کی خدمت کے لئے پیش پیش ہوتے ہیں،جبکہ اپنے ادارے کی ذمے داریوں کو بھی احسن طریقے سے ادا کرتے ہیں۔پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کی لیپٹ میں ہے، اس ناسور سے نجات کے لئے پاک افواج کمربستہ ہیں ، اور وقت فوقتا فوجی آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔

اس کی مختصر تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔

2006 سے تاحال 12 فوجی آپریشنز ہو چکے ہیں

-آپریشن المیزان 2002-2006 (فاٹا)

-آپریشن راہ حق نومبر 2007 (سوات)

-آپریشن شیر دل سپتمبر 2008 (باجوڑ)

-آپریشن زلزلہ 2008-9 (ساؤتھ وزیرستان)

-آپریشن صراط مستقیم 2008 (خیبر ایجنسی)

-آپریشن راہ راست مئی 2009 (سوات)

-آپریشن راہ نجات اکتوبر 2009 (ساؤتھ وزیرستان)

-آپریشن کوہ سفید جولائی 2011 (کرّم ایجنسی)

-آپریشن ضربِ عضب June 2014

-آپریشن کراچی تا حال جاری

- لاتعداد کومبنگ آپریشن (پورا پاکستان)

-آپریشن ردفساد 2017 (پورا پاکستان)

  جس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں،

رواں ماہ ملک میں جاری اچانک دہشت گردی کی لہر کے باعث گیارہ دن میں دس بم دھماکے ہوئے، جس کے پیش نظر پاک افواج نے ’آپریشن ردالفساد‘ کے نام سے کارروئی کے آغاز کا ارادہ کیا گیا ہے، جو ملک کے چپے چپے میں ہوگا۔

تواتر کے ساتھ رونما ہونے والا یہ سلسلہ 2006 کی صورت میں عمل میں آیا تھا، جس میں فضائی کاروائی کی بدولت دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کیا گیا تھا۔ یہ پاک افواج کی دہشت گردوں کے خلاف متواتر کاروائیوں کی صورت میں پہلی کاروائی بتائی جاتی ہے.

آپریشن راہ نجات

نومبر 2007 سوات میں پاک فوج کی جانب سے مبینہ شّدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کئےجانے والے آپریشن کو آپریشن راہ حق کا نام دیا گیا۔

واضح رہے کہ اس تنظیم کو حکومت پاکستان پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔جس میں15 سپاہی شہید ,3 پولیس شیہد ، 290 افراد لقمہ اجل بنے اور 143 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔

آپریشن شیر دل

خیبر پختونخوا میں ’جنگِ باجوڑ‘ جسے آپریش شیر دل کا نام دیا گیا تھا، اس کا آغاز ہوا، یہ پاکستان کے باجوڑ کے علاقے میں ہونے و الی فوجی کارروائی تھی جس میں فرنٹیئر کور اور پاکستان آرمی کے جنگجو برگیڈ نے حصہ لیا تھا۔

باجوڑ آپریشن

باجوڑ کے علاقے پر 2007 کے اوائل سے ہی طالبان نے قبضہ کر لیا تھا اور کہا جاتا تھا کہ القاعدہ کا بنیادی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز یہاں قائم تھا جس سے شمال مشرقی افغانستان بشمول کنڑصوبہ میں ہونے والی کاروائیاں کنٹرول کی جاتی تھیں۔ باجوڑ اب طالبان سے پاک ہو چکا ہے۔

پاکستانی فوج نے 1000 سے زیادہ جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا جن میں القائدہ کا مقامی رہنما مصر کا باشندہ ابو سعید المصری بھی شامل تھا۔ فوج کے 82 جوان شہید ہوئے۔

آپریشن زلزلہ

2008 میں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کی زیر نگرانی ساؤتھ وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ 2009 کی پاکستان سکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2008 میں 313 کے مقابلے میں 2009 میں سکیورٹی فورسز نے 596 آپریشنل حملے کیے اور اس سال میں 12866 شدت پسند گرفتار کیے گئے۔ ان میں 75 القاعدہ کے اراکین اور 9736 مقامی طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے اراکین شامل تھے۔

آپریشن راہ راست

پاک فوج کی جانب سے سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مبینہ شدّت پسندوں اور طالبان کےخلاف کیا جانے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ راست کا نام دیا گیا ہے۔

آپریشن راہ نجات

جون 2009ء میں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں کمانڈر بیت اللہ محسود کے گروپ کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا باقاعدہ آغازپاک فوج کے جنرل ہیڈکواٹرز پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ہوا. ۔اس کارروائی میں پاک فضائیہ

بھی پاک فوج کے ہمراہ حصہ لے رہی ہے۔ سرکاری ذرا‏ئع کے مطابق یہ آپریشن تحریک طالبان پاکستان کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جا‌ئے گا۔

آپریشن کوہ سفید

جولائی 2011 میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر نگرانی ’آپریشن کوہ سفید‘ کیا گیا یہ دو مئی کو دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد پاکستان کا عسکریت پسندوں کے خلاف پہلا آپریشن تھا۔

آپریشن شمالی وزیرستان

شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کے بعد عسکریت پسند شمالی وزیرستان سے بھاگ کر کرّم اور دیگر علاقوں میں پناہ لے رہے تھے لٰہذا کارروائی عمل میں آئیں۔

فوجی آپریشن کرّم کے ایک عسکریت پسند کمانڈر فضل سعید حقانی کے حقانی گروپ کو چھوڑنے کے اعلان کے چند روز بعد شروع ہوا ہے۔ فضل سعید حقانی کا مرکزی حقانی گروپ سے تعلق نہیں تھا تاہم وہ حقانی گروپ کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی سکیورٹی فورسزاور شہریوں پر حملوں کے خلاف ہے۔

آپریشن ضربِ عضب

جون، 2014 کو وزیرستان میں شروع کیا گيا عسکری آپریشن ہے۔اس عسکری کارروائی کو ضرب و عضب کا نام دیا گيا ہے، عضب کا مطلب ہے کاٹنا، تلوار سے کاٹنا، عضب محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام بھی تھا۔جس میں تین ہزار سے زائد دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا جبکہ ایک ہزار سے زائد شر پسندوں کو گرفتار کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرآصف غفور کے مطابق آپریشن ضرب و عضب کے نیتجے میں پولیس، ایف سی اور آرمی کے جوانوں کو ملا کر 189 شہادتیں عمل میں آئی ہیں، 9,450 افراد دہشت گردیکی نذر ہوئے۔

کراچی آپریشن

شہر قائد کی دگرگوں تھی ، معاشی حب کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے بلا تفریق کارروائی کی اور شہر قائد کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے جوان مردی کی مثال قائم کی.اگرچہ اس آپریشن کو متنازعہ بنانے کی بہت کوشش کی گئی اور کی جاری ہے تاہم یہ آپریشن کامیابی سے جاری ہے اور کراچی میں قیام امن ممکن ہوا ہے۔

کراچی میں قیام امن کے حوالے سے 2015کے اختیام پر اس وقت کے ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل بلا ل اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے 2015میں 5,795ٹارگٹ آپریشن کئے ہیں۔34,8978کا سامان جنگ مختلف کاروائیوں میں ری کور کیا ہے۔4950مشکوک افراد کو پولیس کے حوالے کیا ہے۔10353مشکوکافراد گرفتار کیے ہیں۔7,312جنگی سامان مختلف کاروائیوں کے دوران ری کور کیا ہے۔334ٹارگٹ کلرگرفتار کیے ہیں۔350دہشتگردوں کو لقمہ اجل بنایا ہے اور 224جرائم پیشہ عناصر کوتصادم کے دوران عبرت کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سندھ رینجرزکی حالیہ پریس ریلیز کے مطابق5ستمبر 2013سےشروع ہونے والے ’کراچی آپریشن‘ میں تا حال 848 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا جاچکا ہے جنھوں نے7224افراد کو قتل کیا تھا۔جبکہ ترجمان سندھ رینجریز کے مطابق رواں سال 8266آپریشن کیے گئے ہیں ۔13556گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔9992اسلحہ ری کور ہوا کیا ہے ۔555523گولہ باردو کاسامان برآمد کیا ہے ۔ترجمان رینجریز کا کہنا تھا کہ ان کارائیوں کے نیتجے میں 32رینجریز کے جوان شہید جبکہ 89زخمی ہوئے ہیں.چار ہزار سے زائد ٹارگٹ کلرز کو حراست میں لیا، پانچ سو کے قریب دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اُترا، یہ آپریشن سندھ رینجرز کے ذریعے 2013 میں شروع ہوا اور تاحال کامیابی کے ساتھ جاری ہے اس کی واضح مثال یہ ہے کہ اب کراچی میں نہ ہڑتال ہوتی ہے نہ معمول کی خون ریزیتواتر کے ساتھ ہونے والے فوجی آپریشنز کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے، قوم کے بہادر سپوت ملک و ملت کی حفاظت کے لئے کوشاں ہیں.

واضح رہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وطن عزیز کا تقریبا 80 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ 10 لاکھ کے قریب لوگ مالی طور پرمتاثر ہوئے، 70 ہزارلوگ شہید ہوئے ہیں، اور 49،081 افراد زخمی ہوئے ہیں.

 نوٹ: بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

 کنول زہرا   کراچی کی صحافی ہیں،اردو کالم اور بلاگز بھی لکھتی ہیں