شام :مشرقی الغوطہ پر تباہ کن بمباری کے بعد ڈاکٹروں نے کیا دیکھا؟

شام :مشرقی الغوطہ پر تباہ کن بمباری کے بعد ڈاکٹروں نے کیا دیکھا؟

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ پر اسدی فوج کے تباہ کن فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ان میں ہونے والی تباہ کاریوں اور انسانی اموات کی ڈاکٹروں نے ہولناک تفصیل بیان کی ہے۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انسانی لاشے اٹھاتے ، ان کے اعضا اکٹھے کرتے ، ملبے تلے دبی زندگی کی تلاش اور بمباری کی جگہ پر دوسرے حملے سے بچنے کی کوشش میں ان کا دن گزر جاتا ہے۔


مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف قصبوں اور دیہات میں موجود طبی عملہ کا کہنا ہے کہ ان کے لیے تباہ کن بمباری میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو وقت کے ساتھ ابتدائی طبی امداد مہیا کرنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

فرانس میں قائم ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ”طبیبان ماورائے سرحد “ نے العربیہ کو بتایا ہے کہ 18 فروری کے بعد مشرقی الغوطہ پر شامی فوج کے فضائی حملوں میں 630 سے زیاد ہ افراد مارے جا چکے ہیں اور 3300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں“۔یہ محتاط اعداد وشمار ہیں۔ مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔

یہ بھی اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ اس علاقے میں اسپتالوں اور عارضی طور پر قائم کیے گئے کلینکوں کو بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے پیش نظر ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر طبی عملہ کے لیے زخمیوں کو فوری طبی امداد مہیا کرنا مشکل تر ہورہا ہے۔

مشرقی الغوطہ میں موجود ڈاکٹروں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے زمینی صورت حال کی جو تفصیل بتائی ہے، وہ کچھ یوں ہے:

” ہمارے میڈیکل پوائنٹ پر بمباری کی گئی۔ہم ایک اور جگہ منتقل ہوئے مگر اس کو بھی بمباری میں نشانہ بنا دیا گیا۔اس جگہ جب امدادی کارکنان اور وہاں موجود لوگ تباہ شدہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں تھے اور انھیں وہاں سے نکالنے کی کوشش کررہے تھے تو وہاں ایک مرتبہ پھر بمباری کردی گئی۔اس حملے میں کم سے کم ایک سو افراد زخمی ہوگئے ہیں لیکن انھیں طبی امداد مہیا کرنے کے لیے کوئی کلینک کام نہیں کررہا تھا“۔

ایک اور ڈاکٹر صاحب یوں گویا ہوئے:” اگر آپ سیکڑوں لاشوں کو شمار کرتے ہیں ، تو ان میں کچھ زندہ ہوتے ہیں اور کچھ مردہ۔ان کے اعضائ ادھر ادھر بکھرے ہوتے ہیں لیکن ہم ان کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔اگر ہمارے پاس کافی سامان موجود بھی ہو تو ہم اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے۔ہمیں آپ سے کوئی زیادہ طبی سامان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ بمباری کو رکوانے میں ہماری مدد کریں“۔

ایک اور ڈاکٹر صاحب نے بتایا :” ہم کسی مریض کو اپنے اسپتال سے باہر کسی جگہ منتقل نہیں کرسکتے۔کوئی بھی شخص اگر پیدل یا کار میں سڑک پر چلے گا تو وہ یقینی طور پر مارا جائے گا۔ہم نازک حالت والے مریضوں کو بھی صرف پانچ کلومیٹر دو ر واقع انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں نہیں بھیج سکتے جبکہ انھیں فوری طور پر وہاں منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ہم انھیں یہیں رکھنے پر مجبور ہیں لیکن ہمارے پاس مصنوعی تنفس کے لیے ماسک نہیں ہیں۔ہم ان کے لیے ہاتھوں سے چلانے والے وینٹی لیٹر استعمال کررہے ہیں اور ایسے ہر مریض کے پاس ہمہ وقت ایک شخص وینٹی لیٹر کو چلانے کے لیے موجود رہتا ہے“۔

ایک اور ڈاکٹر نے اس سے بھی افسوس ناک صورت حال بتائی ہے۔ انھوں نے بتایا:” ہمارا اسپتال زخمیوں سے بھر چکا ہے اور اس کو پہلے ہی دو مرتبہ حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔جب مریضوں ( زخمیوں) کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی تو ہم نے ان میں سے بعض کو نزدیک واقع ایک اور کلینک میں بھیجنا شروع کردیا۔اب ہم مریضوں کو جو بھی خدمات مہیا کر سکتے ہیں ، وہ کررہے ہیں۔اس وقت ہمارے پاس عملہ اور مریضوں سمیت ڈھائی سو کے لگ بھگ افراد ہیں لیکن ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے“۔

جنگ زدہ علاقے سے مریضوں کو کسی دوسرے علاقے میں کس طرح بھیجا جارہا ہے ،اس کے بارے میں ایک ڈاکٹر بتاتے ہیں:” ہمارے لیے مریضوں کو کسی دوسرے اسپتال میں بھیجنا مشکل تر ہورہا ہے کیونکہ جونھی کوئی ایمبولینس گاڑی باہر نکلتی ہے تو اس کو بمباری میں نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے اور ہم سرنگوں کے ذریعے مریضوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کررہے ہیں“۔