وزیراعظم عمران خان کی بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش

وزیراعظم عمران خان کی بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش
پاکستان نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہو اور ہم نے انتظار کیا اور آج ایکشن لیا۔، عمران خان۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا چاہتا تھا موجودہ حالات پر قوم کو اعتماد میں لوں ۔ ہم نے بھارت کو پلوامہ حملے کے بعد تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی تھی اور پورا تعاون کرنے کا کہا تھا۔ 


وزیراعظم نے کہا ہمیں تحقیقات میں کوئی مسئلہ نہیں تھا ہم تیار تھے لیکن مجھے خدشہ تھا کہ اس کے باوجود بھارت نے کوئی ایکشن کرنا ہے اسی لیے کہا تھا کہ جواب دینا ہماری مجبوری ہو گی کیونکہ کوئی بھی خود مختار ملک کسی کو اپنے ملک میں آ کر کارروائی کی اجازت نہیں دیتا اور پھر وہ خود ہی منصف بن کر فیصلہ بھی کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے خدشہ اس لیے تھا کہ بھارت میں الیکشن ہیں اس لیے انہیں کہا تھا کہ جواب دینا پڑے گا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بتایا کہ میری تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بات ہوئی کل صبح اس لیے ایکشن نہیں لیا کہ گزشتہ صبح جب ایکشن ہوا تو ہم پوری طرح نقصان سے آگاہ نہیں تھے۔ اس لیے جب تک پتا نہیں چلتا تو کوئی بھی ایکشن غیر ذمہ داری ہوتی۔ اس لیے ہم نے انتظار کیا اور آج ایکشن کیا جبکہ ہمارا پہلے سے منصوبہ تھا کہ اس ایکشن میں کوئی ہلاکتیں نہ ہوں۔ صرف بھارت کو یہ بتائیں کہ ہم میں بھی صلاحیت ہے اگر آپ آ سکتے ہیں تو ہم بھی آپ کے طرف آ کر کارروائی کر سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پلوامہ حملے میں جو ہلاکتیں ہوئیں اس پر علم ہے کہ ان کے لواحقین کو تکلیف پہنچی ہو گی کیونکہ ہمارے ہاں 10 سال میں 70 ہزار سے زیادہ لوگوں نے جانوں کی قربانی دی۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر بھارت کو مذاکرات کی پیش کش بھی کر دی۔ساتھ ہی انہوں نے بھارت کے 2 مِگ طیاروں کی بارڈر پر انگیجمنٹ اور انہیں گرانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بھارت کے 2 پائلٹ زیرِ حراست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم یہاں سے کہاں جائیں گے اس لیے بھارت سے کہتا ہوں کہ یہاں عقل اور حکمت کا استعمال بہت ضروری ہے اور جتنی بھی دنیا میں جنگی ہوئیں سب جنگوں میں غلط اندازے لگے۔ کسی نے نہیں سوچا کہ جنگ شروع کر کے کدھر جائیں گے اور پہلے عالمی جنگ مہینوں کے بجائے سالوں میں ختم ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا دوسری جنگِ عظیم میں بھی ایسا ہوا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے 17 سال افغانستان میں پھنسے رہنا پڑے گا۔

اس سے قبل بھارت کی مسلسل جارحیت اور دراندازی کے بعد  آج وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور دیگر حکام شریک تھے۔

پاکستان فضائیہ نے آج صبح لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے دو بھارتی طیاروں کو مار گرایا اور اس کے دو پائلٹ بھی گرفتار کر لیے۔