بھارتی فلموں کی نمائش پرپابندی ختم کرنے کا فیصلہ

کراچی: پاکستان نے بھارتی فلموں کی نمائش پرعائد غیراعلانیہ پابندی ختم کرتے ہوئے استثنٰی یا این او سی جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ بھارتی فلمیں جلد پاکستان سینما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی جائیں گی۔

بھارتی فلموں کی نمائش پرپابندی ختم کرنے کا فیصلہ

کراچی: پاکستان نے بھارتی فلموں کی نمائش پرعائد غیراعلانیہ پابندی ختم کرتے ہوئے استثنٰی یا این او سی جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ بھارتی فلمیں جلد پاکستان سینما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی جائیں گی۔


برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بھارتی فلموں کے لیے این او سی ( نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ ) دینے کا عمل ایک بار پھر شروع کیا جا رہا ہے اوریہ جلد پاکستان کے سینما گھروں میں مائش کے لیے پیش کی جا سکیں گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان اور شاہ رخ خان کی فلم رئیس اور ریتک روشن کی فلم قابل سے متعلق خصوصیت سے بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی فلم کا نام لے کر کچھ نہیں کہیں گی البتہ جب این او سی دیا جا رہا ہے تو سب ہی فلموں کو مل جائے گا۔ مریم اورنگزیب کے مطابق تمام فلموں کو سینسر کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والی دو بھارتی فلموں ’’رئیس‘‘ اور ’’قابل‘‘ سے متعلق اطلاعات ہیں کہ  ہریتک روشن کی فلم قابل کو این او سی جاری کردیا گیا ہے اور امکان ہے کہ فلم کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر کے اسے جمعے کی شب سے نمائش کیلئے پیش کر دیا جائے گا۔ جبکہ شاہ رخ خان اور ماہرہ کی فلم رئیس کی نمائش میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر 1965 سے پابندی عائد ہے مگر 2007 میں حکومت کی بنائی گئی ایک پالیسی کے تحت بھارتی فلموں کی نمائش کے لئے خصوصی این او سی جاری کیا جاتا تھا جس کے بعد سینسر بورڈ متعلقہ فلم کی منظوری دیتا تھا۔ اگست 2016 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق بھارتی فلموں کی درآمد کیلئے این او سی یا استثنیٰ جاری کرنے کا اختیار وزیر تجارت سے لے کر وفاق کو دے دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب وزرات تجارت این او سی جاری کرنے کی مجاز نہیں رہی اور وزیراعظم ہی بھارتی فلموں کی درآمد کی اجازت دے سکتے ہیں۔

ستمبر 2016 میں مقبوضہ کشمیرمیں اڑی کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد انڈین موشن پکچرزایسوسی ایشن نے پاکستانی اداکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی عائد کر نے سے متعلق قرارداد منظورکی تھی جس کے جواب میں پاکستان میں بھی سینما مالکان نے  بھارتی فلموں کی نمائش روک دی تھی۔ دسمبر 2016 میں یہ پابندی ختم کر دی گئی مگر تاحال کوئی بھارتی فلم بڑے پردے پر پیش نہیں کی گئی۔

بھارتی فلموں پر پابندی کے بعد سے اب تک پاکستانی سینما گھروں میں شائقین کی آمد میں 70 فیصد تک کمی ہوئی جبکہ اسی وجہ سے 1700 افراد کی نوکریاں بھی ختم کر دی گئیں.