عدلیہ آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، کہنے سے نہیں ہمارا عمل یہ ثابت کرے گا،چیف جسٹس پاکستان

عدلیہ آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، کہنے سے نہیں ہمارا عمل یہ ثابت کرے گا،چیف جسٹس پاکستان

کراچی: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارنے کہا ہے کہ عدلیہ آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، کہنے سے نہیں ہمارا عمل یہ ثابت کرے گا، ہم نے قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرنے کی قسم کھائی ہے. جج قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہے.  کسی جج کواختیارنہیں کہ وہ خواہش کے مطابق فیصلہ کرے. جمہوریت  میں ریاست کی مضبوطی کے لیے آزادعدلیہ ضروری ہے،بنچ اور بار لازم اور ملزوم ہیں، وکلاکے مسائل حل کرینگے،بار کو سہولت دیناہم پرفرض ہے. مقدموں کے فیصلوں میں تاخیر سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔


 سندھ ہائی کورٹ کے احاطے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں نایاب جج ہیں جن پرسب فخرکرسکتے ہیں. ہماری عدلیہ مکمل آزاد ہے،پاکستان کی عدلیہ دنیا کی کسی ملک کی عدلیہ سے کم نہیں ہے   ۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارنے کہا کہ عدلیہ آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، عدلیہ کی اہمیت اور ضرورت ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ہم فرائض کی انجام دہی میں نہ کوتاہی کرینگے نہ قوم کومایوس کرینگے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پرعدلیہ کی ذمے داری ہے کہ اسے بحال کرے،مقدموں کے فیصلوں میں تاخیر سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔وکلاء مسائل پر بات کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ بنچ اور بار لازم اور ملزوم ہیں، ہمیں بار کے جائز مطالبات منظور کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہے، وکلاکے مسائل حل کرینگے،بار کو سہولت دیناہم پرفرض ہے۔

قبل ازیں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سجادعلی شاہ نے سپریم کورٹ بارکے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کو ہائیکورٹ میں خوش آمدید کہتاہوں، جسٹس ثاقب نثارکی قانون وآئین کی بالادستی کے لیے خدمات قابل تحسین ہیں، چیف جسٹس پاکستان پی سی اوکو مسترد کرنے والے ججزمیں شامل ہیں، ہم نے انکے اس ویژن کے تحت عدالتی افسران کے خلاف کارروائی کی،32 عدالتی افسران کو فارغ بھی کیاگیا ہے اور 50ججز کو شوکاز جاری کیاگیاہے۔

ندیم حسن کلیر< Editor